حدیث نمبر: 40257
٤٠٢٥٧ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن سماك (عن) (٢) عكرمة عن ابن عباس عن النبي ﷺ قال: "إن الدجال أعور جعد هجان أقمر كأن رأسه (غصنة) (٣) شجرة، أشبه الناس بعبد العزى بن قطن، فأما (هلك) (٤) الهلك فإنه أعور، وإن اللَّه ليس بأعور" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبداللہ بن عباس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ دجال گھنگریالے بالوں والا بہت زیادہ سفید ہے اس کے سر کے بال گویا درخت کی شاخیں ہیں لوگوں میں عبدالعزی بن قطن کے بہت زیادہ مشابہہ ہے اگر لوگ اس کی مشابہت کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانے نہیں ہیں (مراد یہ ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں جہالت کی بناء پر تو پھر بھی وہ اپنے سے کانے پن کا عیب دور نہیں کرسکتا جبکہ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک و منزہ ہیں) ۔

حواشی
(١) في [س]: (حسن).
(٢) في [س]: (ابن).
(٣) في [س، هـ]: (غضة)، وفي [أ، ب]: (غصن).
(٤) في [ع]: (أهلك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40257
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه أحمد (٢١٤٨)، وابن حبان (٦٧٩٦)، والطبراني (١١٧١١)، والطيالسي (٢٦٧٨)، وابن خزيمة في التوحيد ص ٤٣، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ٢/ ٢٨٧، والحربي في غريب الحديث ٢/ ٣٧٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40257، ترقيم محمد عوامة 38625)