٤٠٢٥٣ - (حدثنا) (١) يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن عون عن مجاهد قال: ذكروه -يعني الدجال عند ابن عباس، قال: مكتوب (بين) (٢) عينيه "ك ف ر"، قال: فقال (ابن عباس: لم) (٣) اسمعه يقول (ذاك) (٤)، ولكنه قال: أما إبراهيم فانظروا إلى صاحبكم -قال يزيد: يعني النبي (ﷺ (٥) -، وأما موسى فرجل آدم جعد طوال كأنه من رجال (شنوءة) (٦) على (جمل) (٧) أحمر (مخطوم) (٨) (بخلبة) (٩)، فكأني أنظر إليه قد انحدر من الوادي يلبي (١٠).حضرت مجاہد سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس دجال کا تذکرہ کیا تو حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر لکھا ہوگا مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات نہیں سنی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رہے ابراہیم تو ان کی شبیہ دیکھو اپنے صاحب میں یزید راوی کہتے ہیں کہ صاحب سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ذات ہے اور رہے موسیٰ تو وہ ایک گندمی رنگ کے گھنگریالے بالوں والے لمبے قد کے مرد ہیں گویا کہ وہ شنوء ہ قبیلے کے مردوں میں سے ہیں سرخ اونٹ پر جس کی لگام خشک گھاس کی ہوگی پر سوار ہوں گے گویا کہ میں ان کو وادی سے تلبیہ پڑھتے ہوئے آتا دیکھ رہا ہوں۔