مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40220
٤٠٢٢٠ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن الحسن قال: جاء رجل إلى الزبير أيام الجمل فقال: أقتل لك عليا؟ قال: وكيف؟ قال: آتيه فأخبره أني معه ثم أفتك به، فقال الزبير: لا، سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "الإيمان قيد الفتك لا (يفتك) (١) مؤمن" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جنگ جمل کے دنوں میں ایک آدمی حضرت زبیر کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا میں آپ کے لیے علی رضی اللہ عنہ کو قتل کردوں انہوں نے کہا کیسے اس نے کہا میں اس کے پاس جاؤں گا اور اسے بتلاؤں گا کہ میں اس کے ساتھ ہوں پھر دھوکے سے موقع پا کر قتل کردوں گا حضرت زبیر نے فرمایا نہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایمان دھوکے سے قتل کرنے کو روکتا ہے مومن کو دھوکے سے قتل نہیں کیا جائے گا۔
حواشی
(١) في [ب، جـ]: (نفتك).
(٢) منقطع؛ الحسن لم يسمع من بدري مشافهة، أخرجه أحمد (١٤٢٦)، وعبد الرزاق (٩٦٧٦)، والبغوي في الجعديات (٣١٨٤)، وابن عساكر ١٨/ ٤٠٦، وابن أبي عمر في الإيمان (٨١)، وسيأتي ١٥/ ٢٧٩.