مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠٢١٤ - حدثنا أحمد بن عبد اللَّه عن عبد الحميد بن بهرام قال: (حدثنا) (١) شهر بن حوشب قال: حدثني جندب بن سفيان (٢) رجل من ⦗٣٠٩⦘ (بجيلة) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ستكون بعدي فتن كقطع الليل المظلم، تصدم الرجل كصدم (جباه) (٤) فحول الثيران، يصبح الرجل فيها مسلما ويمسي كافرا، ويمسي (مسلمًا) (٥)، ويصبح (كافرا) (٦) "، فقال رجل من المسلمين: يا رسول اللَّه! فكيف نصنع عند ذلك؟ قال: "ادخلوا بيوتكم واخملوا ذكركم"، قال رجل من المسلمين: (٧) (أفرأيت) (٨) إن دُخل على أحدنا بيتُه؟ قال رسول اللَّه ﷺ: "فليمسك بيديه وليكن عبد اللَّه المقتول، (ولا يكن عبد اللَّه القاتل) (٩)، فإن الرجل يكون في قبة الإسلام فيأكل مال أخيه ويسفك دمه ويعصي ربه ويكفر بخالقه فتجب له جهنم" (١٠).حضرت جندب بن سفیان سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب میرے بعد فتنے ہوں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح لوگ انہیں ایسے ٹکرائیں گے جیسے نر بیلوں کی جماعتیں ٹکراتی ہیں ان میں انسان مسلمان ہونے کی حالت میں صبح کرے گا اور شام کو کافر ہوگا اور شام کو مسلمان ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اس وقت کیا کریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں میں داخل ہوجانا اور اپنے آپ کو گمنام کرلینا مسلمانوں میں ایک صاحب نے عرض کیا آپ کا کیا خیال ہے اگر ہم میں سے کسی ایک کے گھر میں کوئی داخل ہوجائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ اپنا ہاتھ روکے اور اللہ کا مقتول بندہ بن جائے اور اللہ کا قاتل بندہ نہ بنے بلاشبہ انسان کا دین قوی ہوتا ہے پس وہ اپنے بھائی کا مال کھاتا ہے اور اس کا خون بہاتا ہے اور اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنے خالق کا انکار کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے۔