حدیث نمبر: 40213
٤٠٢١٣ - حدثنا (يعمر) (١) بن بشر قال: حدثنا ابن مبارك قال: أخبرنا معمر عن إسحاق بن راشد عن عمرو بن وابصة الأسدي عن أبيه قال: إني بالكوفة في داري إذ سمعت على باب الدار: السلام عليكم (أ) (٢) ألج؟ فقلت: وعليكم السلام، فلج، فإذا هو عبد اللَّه بن مسعود فقلت: يا (أبا) (٣) عبد الرحمن! آية ساعة (زيارة؟) (٤) وذلك في نحر الظهيرة، قال: طال علي النهار فتذكرت من أتحدث إليه، فجعل يحدثني ⦗٣٠٨⦘ عن رسول اللَّه ﷺ وأحدثه، فقال عبد اللَّه: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "تكون فتنة: النائم فيها خير من المضطجع، والمضطجع خير من القاعد، والقاعد خير (من القائم، والقائم خير) (٥) من الماشي، والماشي خير من الساعي، قتلاها كلها في النار"، قال: قلت: (ومتى) (٦) ذاك يا رسول اللَّه؟ قال. "ذاك أيام الهرج"، قلت: ومتى أيام الهرج؟ قال: "حين لا (يأمن) (٧) الرجل جليسه"، (قال) (٨): قلت: فبم تأمرني (إن) (٩) أدركت ذلك؟ قال: " (أدخل) (١٠) بيتك"، قلت: أفرأيت إن دُخل علي؟ قال: " (فوالِ) (١١) مخدعك"، قال: قلت: أفرأيت إن دخل علي؟ قال: "قل هكذا، وقل (بؤ) (١٢) بإثمي وإثمك، وكلن عبد اللَّه المقتول" (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت وابصہ اسدی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں کوفہ میں اپنے گھر میں تھا اچانک میں نے اپنے دروازے پر یہ بات سنی السلام علیکم کیا میں داخل ہوجاؤ میں نے کہا وعلیکم السلام داخل ہوجاؤ پس وہ عبداللہ بن مسعود تھے میں نے عرض کیا اے ابو عبدالرحمان ! یہ ملاقات کا کونسا وقت ہے یہ عین دوپہر کی بات تھی انہوں نے فرمایا دن مجھ پر لمبا ہوگیا تھا میں نے سوچا کہ کسی سے بات چیت کروں پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سنانے لگے اور میں بھی ان کو احادیث سنانے لگا حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک فتنہ ہوگا اس میں سونے والا اس میں پہلو کے بل لیٹنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں لیٹنے والا بھنے ا والے سے بہتر ہوگا بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اس فتنے میں مارے جانے والے سارے جہنم میں جائیں گے راوی حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے عرض کیا یہ کب ہوگا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے ارشاد فرمایا یہ ہرج کے ایام میں ہوگا میں نے عرض کیا یہ ایام ہرج کب ہوں گے انہوں نے فرمایا جب کسی آدمی کو اپنے ہمنشین سے امن نہیں ہوگا حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے عرض کیا اگر میں یہ زمانہ پالوں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھر میں داخل ہوجانا میں نے عرض کیا اگر کوئی میرے گھر میں داخل ہوجائے تو آپ کی کیا رائے ہے ارشاد فرمایا کہ پھر تو اپنی کوٹھڑی میں گھس جا میں نے کہا اگر وہ وہاں بھی داخل ہوجائے تو آپ کا کیا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس طرح کرنا (یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا تھا جس کی تفصیل مسند احمد کی روایت سے ہوتی ہے کہ راوی نے دائیں ہاتھ سے کلائی کی ہڈی کو پکڑ کر اشارے کی تفصیل کی) اور کہنا میرے گناہ اور اپنے گناہ کے ساتھ لوٹ اور اللہ کا مقتول بندہ بن جانا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (معتمر).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [س]: (زباءة).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [أ، ب، ع]: (وما نا).
(٧) في [ط، هـ]: (نأمن).
(٨) سقط من: [جـ].
(٩) في [أ، ب]: (إذا).
(١٠) في [أ، ب]: (دخلت).
(١١) سقط من [أ، ب]، وفي [ع]: (فوالي)، وفي [هـ]: (فأدخل).
(١٢) في [هـ]: (أبؤ).
(١٣) مجهول؛ لجهالة عمرو بن وابصة، والخبر أخرجه أحمد (٤٢٨٦)، وأبو داود (٤٢٥٨)، والحاكم ٣/ ٣٢، وعبد الرزاق (٢٠٧٢٧)، والطبراني (٩٧٧٤)، وابن المبارك في المسند (٢٦٢)، والبزار (١٤٤٤)، والمزي ٢٣/ ٤٠٧، وابن عساكر ٦٢/ ٣٣٦، والخطابي في العزلة ص ١١، والحربي في غريب الحديث ١/ ١٣٢.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40213
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40213، ترقيم محمد عوامة 38584)