حدیث نمبر: 40187
٤٠١٨٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه عن أخيه (ربيعة) (١) بن جوشن قال: قدمت الشام فدخلت على عبد اللَّه بن عمرو فقال: ممن أنتم؟ قلنا: من أهل البصرة، قال: (أمالا) (٢) فاستعدوا يا أهل البصرة، قلنا: بماذا؟ قال: (بالزاد) (٣) والقرب، خير المال اليوم أجمال يحتمل الرجل عليهن ⦗٣٠٠⦘ أهله ويميرهم عليها، وفرس (وقاح) (٤) شديد، فواللَّه ليوشك بنو (قنطوراء) (٥) أن يخرجوكم منها حتى يجعلوكم (بركبة) (٦)، قال: قلنا: وما بنو (قنطوراء؟) (٧) قال: أما في الكتاب فهكذا نجده، وأما في النعت فنعت الترك (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ربیعہ بن جو شن سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں شام کے علاقے میں گیا اور حضرت عبداللہ بن عمرو کی مجلس میں حاضر ہوا۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کن میں سے ہو ؟ ہم نے عرض کیا اہل بصرہ میں سے انہوں نے فرمایا اے اہل بصرہ لڑائی کی تیاری کرو ہم نے عرض کیا کہ کس چیز کے ساتھ ؟ انہوں نے فرمایا توشہ دان اور مشکیزوں کے ساتھ آج بہترین مال وہ اونٹ ہیں جن پر آدمی اپنے گھر والوں کو سوار کرتا ہے اور جن پر غلہ لے کرجاتا ہے اور بہتر ین مال وہ مضبوط کھروں والا گھوڑا ہے (یہ آج کل بہترین مال ہے) اللہ کی قسم عنقریب بنو قنطورا تمہیں بصرہ سے نکال دیں گے یہاں تک کہ تمہیں ایک جماعت بنادیں گے راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ بنو قنطورا کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ کتاب کے اندر تو میں اسی طرح پاتا ہوں باقی یہ صفت تر کیوں کی ہے۔

حواشی
(١) في [جـ]: احتمال (رمعة).
(٢) في [ع]: (أما ألا).
(٣) في [جـ]: (بالمزاد).
(٤) في [ع]: (ماح).
(٥) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (قنطور).
(٦) في [أ، ب، ط، هـ]: (بدكية)، وفي [جـ، ع]: غير منفوطة، وركبة من نجد تلي الطائف منطقة فسيحة.
(٧) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (قنطور).
(٨) مجهول؛ لجهالة ربيعة بن جوشن، وبنحوه أخرجه الحاكم ٤/ ٥٢٢.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40187
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40187، ترقيم محمد عوامة 38559)