حدیث نمبر: 40172
٤٠١٧٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن محمد عن عبد الرحمن ابن أبي بكرة قال: قدمت الشام قال: فقلت: (لو) (١) دخلت على عبد اللَّه بن عمرو فسلمت عليه فأتيته فسلمت عليه فقال لي: من أنت؟ فقلت: أنا عبد الرحمن بن أبي بكرة، قال: يوشك بنو (قنطوراء) (٢) أن يخرجوكم من أرض العراق، قلت: ثم نعود؟ قال: أنت تشتهي ذلك، (قلت: نعم) (٣)، (قال: نعم) (٤)، وتكون لكم سلوة (من) (٥) عيش (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں شام گیا اور میں نے (اپنے جی میں) کہا اگر میں حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس جاؤں اور ان کو سلام کروں پس میں ان کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا انہوں نے پوچھا کہ تو کون ہے میں نے عرض کیا کہ عبدالرحمن بن ابی بکرہ ہوں انہوں نے ارشاد فرمایا کہ قریب ہے کہ بنی قنطورا (ترک یا روم کے نصاریٰ ) تمہیں عراق کی زمین سے نکالدیں میں نے عرض کیا پھر کیا ہم لوٹیں گے ؟ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم اس بات کو چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں انہوں نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لیے زندگی کی بہار ہوگی وہ لوٹنا۔

حواشی
(١) في [ع]: (أن).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (قنطور).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، س].
(٥) في [ط، هـ]: (بن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40172
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٤٧٥، ونعيم (١٩١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40172، ترقيم محمد عوامة 38544)