مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٦٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش عن المنهال بن عمرو عن أبي البختري عن حذيفة قال: (لتعملن) (١) عمل بني إسرائيل فلا يكون فيهم شيء إلا كان فيكم مثله، فقال رجل: تكون (فينا) (٢) قردة وخنازير؟ قال: وما يبريك من ذلك؟ لا أم لك؛ قالوا: حدثنا يا أبا عبد اللَّه، قال: لو حدثتكم لافترقتم على ثلاث فرق: فرقة تقاتلني، وفرقة لا تنصرني، وفرقة تكذبني، أما إني سأحدثكم ولا أقول: (٣) قال رسول اللَّه ﷺ، أرأيتكم لو حدثتكم أنكم تأخذون كتابكم (فتحرقونه) (٤) وتلقونه في الحشوش، صدقتموني؟ قالوا: سبحان اللَّه! (٥) ويكون هذا؟ [قال: أرأيتكم لو حدثتكم أنكم تكسرون قبلتكم، صدقتموني؟ قالوا: سبحان اللَّه! ويكون هذا؟ قال: أرأيتكم لو حدثتكم أن (أمكم) (٦) تخرج في فرقة من المسلمين، (وتقاتلكم) (٧)، صدقتموني؟ قالوا: سبحان اللَّه! ويكون هذا؟] (٨) (٩).حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ تم ضرور بنی اسرائیل والے اعمال کرو گے ان میں کوئی چیز واقع نیں ہوئی مگر تمہارے اندر اس کی مثل ہوگی ایک صاحب نے عرض کیا کیا ہم میں بندر اور خنزیر بھی ہوں گے ارشاد فرمایا تیرے لیے ماں نہ ہو اس سے تمہیں کس نے بری کیا ہے ان کے ساتھیوں نے عرض کیا اے ابو عبد اللہ ہم سے بیان کرو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں تم سے بیان کروں تو تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے اور ایک گروہ مجھ سے لڑائی کرے گا اور دوسرا گروہ میری مدد نہیں کرے گا اور ایک گروہ میری تکذیب کرے گا باقی میں تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں اور میں نہیں کہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے بیان کروں کہ تم اپنی کتاب کو لے کر اسے جلا دو گے اور اسے بیت الخلاؤں میں پھینک دو گے کیا تم میری تصدیق کرو گے انہوں نے کہا سبحان اللہ کیا یہ بھی ہوگا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے بیان کروں کہ تم اپنے قبلہ کو توڑ دو گے کیا تم میری تصدیق کرو گے انہوں نے سبحان اللہ کیا یہ ہوگا (پھر) فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے بیان کروں کہ تمہاری ماں مسلمانوں کے ایک گروہ میں خروج کرے گی اور تم سے لڑائی کرے گی کیا تم میری تصدیق کرو گے انہوں نے کہا سبحان اللہ کیا یہ ہوگا۔