مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٥٥ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن (مجالد) (١) عن الشعبي قال: لما كان الصلح بين الحسن بن علي ومعاوية أراد الحسنُ الخروجَ إلى المدينة، فقال له معاوية: ما أنت بالذي تذهب حتى تخطب الناس قال: قال الشعبي: فسمعته على المنبر: حمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: (أما بعد) (٢) فإن أكيس الكيس التقى، (وإن) (٣) أعجز العجز (الفجور) (٤)، وإن هذا الأمر الذي (اختلفت فيه أنا) (٥) ومعاوية (حق) (٦) كان لي فتركته لمعاوية، أو حق كان (لامرئ) (٧) أحق به مني، وإنما فعلت هذا لحقن دمائكم، وإن أدري لعله فتنة لكم ومتاع إلى حين، ثم نزل (٨).حضرت شعبی سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ کے درمیان صلح ہوئی حضرت حسن نے مدینہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا مجاہد نے شعبی سے نقل کیا شعبی نے فرمایا میں نے ان سے منبر پر سنا کہ انہوں نے اللہ کی تعریف کی اور اس کی ثناء بیان کی پھر فرمایا یقینا سب سے عقلمندی کی بات تقوٰی ہے اور سب سے عجز کی بات فسق و فجور ہے اور یہ امر (خلافت) جس میں میرے اور معاویہ کے درمیان اختلاف ہوا یہ میرا حق تھا میں نے معاویہ کے لیے چھوڑ دیا یا یوں فرمایا یہ میرا حق تھا جس کے معاویہ مجھ سے زیادہ حق دار ہیں اور میں نے یہ تمہارے خونوں کی حفاظت کے لیے ایسا کیا ہے اور میں نہیں جانتا ہوسکتا ہے تمہارے لیے آزمائش ہو اور مقررہ مدت تک نفع ہو پھر نیچے اتر آئے۔