مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٥٤ - حدثنا وكيع عن أبي عاصم الثقفي عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: جاءنا قتل عثمان وأنا أُؤنس من نفسي شبابا وقوة ولو قتلت القتال، فخرجت أحضر الناسَ حتى إذا كنت بالربذة إذا عليٌّ بها، فصلى بهم العصر، فلما سلم أسند ظهره في مسجدها واستقبل القوم، قال: فقام إليه الحسن بن علي يكلمه (وهو) (١) يبكي، (٢) فقال (له) (٣) عليٌّ: تكلم ولا تحن حنين الجارية، قال: أمرتك حين (حصر) (٤) الناس هذا الرجل أن تأتي مكة فتقيم بها فعصيتني، ثم أمرتك حين قتل أن تلزم بيتك حتى ترجع إلى العرب (غواربُ) (٥) أحلامها، فلو كنت في جحر ضب لضربوا إليك أباط الإبل، حتى يستخرجوك من جحرك فعصيتني، و (أنا) (٦) أنشدك باللَّه أن تأتي العراق فتقتل بحال مضيعة، قال: فقال علي: أما قولك: آتي مكة، فلم أكن بالرجل الذي تستحل لي مكة، وأما قولك: قتل الناس عثمان، فما ذنبي إن كان الناس قتلوه، وأما قولك: آتي العراق، فأكون كالضبع (تستمع اللدم) (٧) (٨).حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت عثمان کی شہادت کی خبر آئی اور میں اپنے آپ میں جوانی اور قوت کو پہچان رہا تھا اگر میں لڑائی کرتا میں نکلا لوگوں کے ساتھ حاضر تھا جب ہم مقام ربذہ پر پہنچے وہاں پر حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود تھے انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب سلام پھیرا لوگوں کی طرف منہ کر کے اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ان سے روتے ہوئے بات کرنے لگے انہوں نے فرمایا بات کرو اور لڑکی کے رونے کی طرح نہ رو۔ حضرت حسن نے فرمایا میں نے آپ سے کہا تھا جب لوگوں نے اس آدمی کا محاصرہ کیا تھا کہ آپ مکہ جا کر وہاں اقامت اختیار کریں آپ نے میری بات نہ مانی پھر جب انہیں شہید کیا گیا میں نے آپ سے کہا تھا اپنے گھر میں رہیں۔ یہاں تک عرب کی عقل مندی واپس آجائے پس اگر آپ گوہ کی بل میں ہوئے تو وہ آپ کو اونٹ کے پہلوں مارتے یہاں تک آپ کو اس بل سے نکالتے آپ نے میری بات نہ مانی اور میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ عراق نہ جائیں کہیں بےتوجہی کی حالت میں آپ کو قتل کردیا جائے راوی نے فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا باقی رہی تمہاری بات کہ میں مکہ جاتا تو میں اس آدمی کے پاس نہیں گیا جو میرے لیے مکہ کو قتال کے لیے حلال کرتا اور تیری یہ بات کہ لوگوں نے عثمان کو شہید کردیا تو میرا کیا گناہ ہے اگر لوگوں نے ان کو قتل کردیا ہے اور رہی تمہاری یہ بات کہ میں عراق نہ جاتا (مدینہ اگر رہتا تو) تو میں اس گوہ کی طرح ہوتا جو (بل میں رہ کر) آواز کو سنتی ہے۔