حدیث نمبر: 40152
٤٠١٥٢ - حدثنا شريك عن عطاء بن السائب عن وائل بن علقمة أنه شهد الحسين بكربلاء، قال: فجاء رجل فقال: أفيكم حسين؟ فقال: من أنت؟ فقال: أبشر بالنار، قال: بل رب غفور رحيم مطاع، قال: ومن أنت؟ قال: أنا ابن (حويزة) (١)، قال: اللهم (حزه) (٢) إلى النار، قال: فذهب (فنفر) (٣) به فرسه على (ساقيه) (٤) (فتقطع) (٥) فما بقي مثه غير رجله في الركاب (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت وائل بن علقمہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسین کے ساتھ کربلا میں موجود تھے انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی آیا اس نے کہا کیا تمہارے اندر حسین ہے حضرت حسین نے پوچھا تم کون ہو اس نے کہا آگ کی بشارت لو انہوں نے فرمایا بلکہ رب معاف کرنے والا رحم کرنے والا فرمانبرداری کیا جانے والا ہے حضرت حسین نے پوچھا تو کون ہے اس نے کہا میں ابن حویزہ ہوں آپ نے فرمایا اے اللہ اسے آگ کی طرف جمع کرلے راوی نے فرمایا وہ آدمی گیا اس کا گھوڑا اسے اس کی پنڈلیوں کے بل لے کر بھاگا پس وہ کٹا اس کے جسم سے سوائے اس کے پاؤں کے جو رکاب میں تھے کوئی حصہ باقی نہ رہا۔

حواشی
(١) في [س]: (جويرة).
(٢) في [أ، ب، س، جـ، ع]: (خذه).
(٣) في [س]: (فنغر).
(٤) في [س]: (سافنه).
(٥) في [أ]: (فتقطع).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40152
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لاختلاط عطاء بن السائب: أخرجه الطبراني (٢٨٤٩)، والدارقطني في المؤتلف ٢ (٦٢١)، وابن أبي جرادة في بغية الطلب ١/ ٣٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40152، ترقيم محمد عوامة 38524)