حدیث نمبر: 40150
٤٠١٥٠ - حدثنا محمد بن عبيد قال: حدثني شرحبيل بن مدرك الجعفي عن عبد اللَّه بن (نجي) (١) الحضرمي عن أبيه أنه سافر مع علي، وكان صاحب مطهرته حتى حاذى (نينوى) (٢) وهو منطلق إلى صفين فنادى: صبرًا أبا عبد اللَّه، صبرا أبا عبد اللَّه! فقلت: ماذا (أبا) (٣) عبد اللَّه؟ قال: دخلت على النبي ﷺ وعيناه تفيضان، قال: قلت: يا رسول اللَّه ما لعينيك تفيضان أغضبك أحد؟ قال: "قام من عندي جبريل فأخبرني أن الحسين يقتل بشط (الفرات) (٤) فلم أملك عيني أن فاضتا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نجی حضرمی سے روایت ہے فرمایا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے وضو وغیرہ کا انتظام کرنے لگے یہاں تک کہ وہ نینوی شہر کے برابر ہوگئے ارادہ ان کا صفین کی طرف جانے کا تھا تو انہوں نے پکارا ٹھہرو ابو عبداللہ ٹھہرو ابوعبداللہ میں نے کہا کیا ہوگیا ابو عبداللہ کو انہوں نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی آنکھیں بہہ رہی ہیں کیا آپ کو کسی نے غصہ دلایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جبرئیل میرے پاس کھڑے ہوئے ہیں انہوں نے مجھے بتلایا ہے کہ حسین کو فرات کے کنارے شہید کیا جائے گا پس اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہا وہ بہہ پڑیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (يحيى).
(٢) في [أ، ب، س]: (سواء)، وفي [ع]: (بسؤا).
(٣) في [أ، ب، س]: (أنا).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (يحيى).
(٥) مجهول؛ لجهالة نجي، أخرجه أحمد (٦٤٨)، والبزار (٨٨٤)، وأبو يعلى (٣٦٣)، والطبراني (٢٨١١)، والضياء ٢ (٧٥٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٤٢٧)، وابن عساكر ١/ ١٨٧٤، والآجرى في الشريعة (١٦٦٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40150
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40150، ترقيم محمد عوامة 38522)