مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٤٩ - حدثنا يعلى بن عبيد عن موسى الجهني عن صالح بن أربد النخعي قال: قالت أم سلمة: دخل الحسين على النبي ﷺ وأنا جالسة على الباب، فتطلعت فرأيت في كف النبي ﷺ شيئًا يقلبه وهو نائم على بطنه، فقلت: يا رسول اللَّه! تطلعت فرأيتك تقلب شيئا في كفك، والصبي نائم على بطنك وفى موعك تسيل، فقال: "إن جبريل أتاني بالتربة التي يقتل عليها، وأخبرني أن أمتي يقتلونه" (١).حضرت ام سلمہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسین نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے میں دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی میں نے غور کیا اور دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی میں کوئی چیز تھی جسے آپ الٹ پلٹ رہے تھے اور حضرت حسین آپ کے پیٹ پر سوئے ہوئے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے غور کیا اور دیکھا کہ آپ اپنی ہتھیلی پر کوئی چیز الٹ پلٹ رہے ہیں اور بچہ آپ کے پیٹ پر سویا ہوا ہے اور آپ کے آنسو جاری ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلاشبہ جبرئیل میرے پاس وہ مٹی لے کر آیا تھا جہاں اسے شہید کیا جائے گا اس نے مجھے خبر دی ہے کہ میری امت اسے قتل کرے گی۔