مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٤٧ - حدثنا حسين بن علي عن ابن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه قال: قال ابن (عباس) (١): جاءني (حسين) (٢) يستشيرني في الخروج إلى ما هاهنا -يعني العراق، فقلت: (لولا) (٣) أن (يُزروا) (٤) بي وبك لشبثت يدي في شعرك، إلى أين تخرج إلى قوم قتلوا أباك وطعنوا أخاك، فكان الذي (سخا بنفسي) (٥) عنه أن قال لي: إن هذا (الحرم) (٦) يستحل برجل؛ ولأن أقتل في أرض كذا وكذا غير أنه يباعده -أحب إلي من أن أكون أنا هو (٧).حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسین میرے پاس عراق کی طرف جانے کے سلسلے میں مشورہ کے لیے آئے میں نے ان سے کہا اگر وہ میرے اور آپ کی ذات پر عیب نہ لگائیں تو میں مضبوطی کے ساتھ آپ سے چمٹ جاتا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں ایسے لوگوں کے پاس جنہوں نے آپ کے والد کو شہید کیا اور آپ کے بھائی کو نیزے مارے میرے ساتھ جو انہوں نے بات کے سلسلے میں سخاوت فرمائی اس میں یوں فرمایا یہ حرم کسی آدمی کے لیے لڑائی کے سلسلے میں حلال کیا جائے میں فلاں فلاں زمین میں قتل کردیا جاؤں اگرچہ وہ دور ہے مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس آدمی کی طرح ہوں جس کے ساتھ لڑائی کرنے میں حرم کو حلال سمجھا جائے۔