مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٤٤ - حدثنا محمد بن موسى (العتري) (١) عن (جبلة بنت (المصبح)) (٢) (٣) (قالت) (٤): أوصى مالك بن ضمرة بسلاحه (للمجاهدين) (٥) من بني ضمرة ألا (٦) يقاتل به أهل نبوة، قال: فقال أخوه عند رأسه: يا أخي عند الموت تقول هذا؟ قال: هو ذاك، قال: فنحن في (حل) (٧) إن احتاج ولدك أن (يبيع) (٨)، قال: نعم، (قال) (٩): فذهب السلاح فلم (يبق) (١٠) منه إلا رمح، قالت: فجاء رجل من ذلك البعث (الذين) (١١) ساروا إلى الحسين فقال: يا ابن (مالك) (١٢) يا موسى! أعرني رمح أبيك أعترض به، قال: فقال: يا جارية! أعطه الرمح، فقالت امرأة من أهله: يا موسى أما تذكر وصية أبيك؟ قالت: وقد مر الرجل بالرمح، قالت: فلحق الرجل فأخذ الرمح منه فكسره.حضرت جبلہ بنت مصفح سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت مالک بن ضمرہ نے مجاہدین کو اپنے اسلحہ کے بارے میں وصیت کی خبردار اس سے کشیدگی کرنے والوں کے ساتھ لڑائی کی جائے گی راوی محمد بن موسیٰ نے فرمایا ان کے بھائی نے ان کے سر کے پاس کہا اے بھائی موت کے وقت آپ یہ کہہ رہے ہیں انہوں نے کہا یہ ایسے ہی ہے ان کے بھائی نے کہا اگر آپ کی اولاد کو ضرورت ہو بیچنے کی تو کیا ہمارے لیے یہ جائز ہوگا انہوں نے فرمایا ہاں وہ اسلحہ لے گئے ایک نیزے کے سوا کوئی چیزنہ رہی، راویہ فرماتی ہیں اس لشکر میں سے جو حضر تحسین کے مقابلے میں گیا ایک آدمی آیا مالک بن ضمرہ کے بھائی نے کہا اے مالک کے بیٹے اے موسیٰ مجھے اپنے والد کا نیزہ عاریۃ دینا میں اسے ماروں روای فرماتے ہیں مالک کے بیٹے نے کہا اے لڑکی ان کو نیزہ دے دوان کے گھر والوں میں سے ایک عورت نے کہا اے موسیٰ کیا تمہیں اپنے والد کی وصیت یاد نہیں۔ اور وہ آدمی آپ کے والد کا نیزہ مانگ کرلے گیا۔ پس وہ اس کے پیچھے گئے اور اس سے نیزہ لے کر اسے توڑ دیا۔