مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٤٢ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن (عمير) (١) بن إسحاق قال: دخلت أنا ورجل على الحسن بن علي نعوده، فجعل يقول لذلك الرجل: سلني قبل أن لا تسألني، قال: ما أريد أن أسألك شيئًا؟ يعافيك اللَّه، قال: فقام فدخل ⦗٢٨١⦘ [(الكنيف) (٢) ثم خرج إلينا ثم قال: ما خرجت إليكم حتى لفظت طائفة من كبدي (أقلبها) (٣)] (٤) بهذا العود، ولقد (سُقيت) (٥) السم مرارا، ما شيء أشد من هذه المرة، قال: (فغدونا) (٦) عليه من الغد فإذا هو في السوق، قال: وجاء الحسين فجلس عند رأسه فقال: يا أخي من صاحبك؟ قال: تريد قتله؟ قال: نعم، قال: لئن كان الذي أظن، (للَّه) (٧) أشد نقمة، وإن كان بريئا فما أحب أن (يقتل) (٨) بريء (٩).حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور ایک آدمی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اس آدمی سے کہنے لگے مجھ سے پوچھو اس سے پہلے کہ تم مجھ سے نہ پوچھ سکو۔ ان صاحب نے کہا میں آپ سے کچھ نہیں پوچھنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو عافیت عطا کرے راوی نے فرمایا حضرت حسن کھڑے ہوئے اور بیت الخلاء میں داخل ہوئے پھر ہمارے پاس تشریف لائے پھر ارشاد فرمایا میں تمہاری طرف نہیں نکلا یہاں تک کہ میں نے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا پھینکا ہے جس کو اس لکڑی سے الٹ پلٹ رہا ہوں مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا اس مرتبہ سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں تھی حضرت عمیر نے کہا اگلے دن ہم صبح کو ان کے پاس گئے وہ جان کنی کی حالت میں تھے راوی عمیر نے فرمایا حضرت حسین آئے پس ان کے سر کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا اے بھائی جان آپ کو زہر دینے والا کون ہے انہوں نے فرمایا تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو انہوں نے فرمایا ہاں حضرت حسن نے فرمایا اگر تو وہی ہے جس کے بارے میں میرا گمان ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت سزا دینے والے ہیں اور اگر بری ہے تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایک بری آدمی کو قتل کیا جائے۔