مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٤١ - حدثنا محمد بن عبيد قال: حدثني صدقة بن المثنى عن جده (رياح) (١) ابن الحارث قال: قام الحسن بن علي بعد وفاة علي، فخطب الناس فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: إن ما هو آت قريب، وإن أمر اللَّه واقع وإن كره الناس وإني واللَّه ما أحب أن أَليَ من أمر أمة محمد ﷺ ما يزن (مثقال) (٢) ذرة من خردل بهراق فيها محجمة من دم منذ علمت ما ينفعني (مما) (٣) يضرني فالحقوا بطيتكم (٤).حضرت ریاح بن حارث سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کھڑے ہوئے لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کی پھر فرمایا یقینا جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا حکم واقع ہونے والا ہے اگرچہ لوگ اسے ناپسند کریں اور اللہ کی قسم مجھے یہ بات پسند نہیں کہ مجھے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امر سے رائی کے دانے کے برابر حاصل ہو جس میں تھوڑا سا خون بہایا گیا ہو جو میں نے جان لیا کہ یہ امر مجھے نقصان پہنچانے والی چیزوں سے کوئی نفع دینے والا نہیں ہے پس اپنی سواریوں کے ساتھ مل جاؤ۔