مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٤٠ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا زهير قال: حدثنا أبو روق الهمذاني قال: حدثنا (أبو الغريف) (١) قال: كنا مقدمة (الحسن) (٢) بن علي اثني عشر ألفا بمسكن مستميتين تقطر سيوفنا من (الجد) (٣) على قتال أهل الشام وعلينا أبو (العمرطة) (٤)، قال: فلما (أتانا) (٥) صلح (الحسن) (٦) بن علي [ومعاوية كأنما كُسرت ظهورُنا من (الحزن والغيظ) (٧) قال: فلما قدم الحسن بن علي] (٨) الكوفة قام إليه رجل منا يكنى أبا عامر فقال: السلام عليك يا مذل المؤمنين، فقال: ⦗٢٨٠⦘ لا (تقل) (٩) ذاك يا أبا عامر، (ولكني) (١٠) كرهت (أن أقتلهم) (١١) طلب الملك -أو على الملك (١٢).حضرت ابو غریف سے روایت ہے کہ ہم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے مقدمۃ الجیش میں بارہ ہزار کی مقدار میں مقام مسکن میں تھے اس حال میں کہ موت کے متمنی تھے ہماری تلواروں سے اہل شام کے ساتھ سخت لڑائی کی وجہ سے (خون کے) قطرات ٹپک رہے تھے ہم پر ابو عمرطہ امیر تھے ابو غریف فرماتے ہیں جب ہمارے پاس حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ کے درمیان صلح کی خبر پہنچی تو اس خبر پر غم اور غصے سے گویا ہماری کمریں ٹوٹ گئیں ابو غریف راوی نے فرمایا جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے تو ہم میں سے ایک آدمی جس کی کنیت ابو عامر تھی کھڑا ہوا اور کہنے لگا السلام علیک اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو عامر یہ بات نہ کرو لیکن میں نے ناپسند سمجھا تھا اس بات کو کہ میں ان کو ملک کی طلب میں قتل کروں۔