حدیث نمبر: 40134
٤٠١٣٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا العوام بن حوشب قال: حدثني سعيد بن (جمهان) (١) عن ابن أبي بكرة عن أبيه قال: (ذكر) (٢) رسول اللَّه ﷺ أرضا يقال: لها البصرة أو البصيرة، إلى جنبها نهر يقال له: دجلة (ذو تحل) (٣) (كثيرة) (٤) (ينزل) (٥) به (بنو) (٦) قنطوراء (فتفترق) (٧) الناس ثلاثَ فرق: فرقة تلحق بأصلها وهلكوا، وفرقة تأخذ على أنفسها وكفروا، وفرقة يجعلون ذراريهم خلف ظهورهم فيقاتلون، قتلاهم شهداء يفتح اللَّه على بقيتهم (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک زمین کا تذکرہ کیا جسے بصرہ یا بصیرہ کہا جاتا ہے اس کے ایک طرف ایک نہر ہے جسے دجلہ کہا جاتا ہے کثیر کھجوروں والی وہاں بنو قنطو راء اتریں گے (جو ترک کو کہا جاتا ہے اور حاکم کے قول کے مطابق اس سے مراد روم کے نصرانی ہیں) لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے ایک گروہ اپنی اصل سے مل جائے گا اور ہلاک ہوجائے گا دوسرا گروہ اپنے نفسوں کو لے گا اور کفر کرے گا اور ایک گروہ اولاد کو پس پشت ڈال کر قتال کرے گا ان کے مقتولین شہداء ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے باقی رہنے والوں کو فتح عطاء کرے گا۔

حواشی
(١) في [ع]: (جبهان).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب]: (وتحل).
(٤) في [س]: (كبيرة).
(٥) في [س]: (تنزل).
(٦) في [هـ]: زيادة، ومراجع التخريج.
(٧) في [س]: تكررت، وفي [أ، ب]: (فيفترق).
(٨) مجهول؛ ابن أبي بكرة لم يتحدد، فورد أنه مسلم وهو ثقة، وورد أنه عبد اللَّه أو عبيد اللَّه وهو مجهول، والحديث أخرجه أحمد (٢٠٤١٣)، وأبو داود (٤٣٠٦)، وابن حبان (٦٨٤٨)، والبزار (٣٦٦٧)، والطيالسي (٨٧٠)، وابن عدي ٢/ ٨٤٧، وأبو عمرو الداني في الفتن (٤٧٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40134
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40134، ترقيم محمد عوامة 38506)