مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٣٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا العوام بن حوشب قال: حدثني سعيد بن (جمهان) (١) عن ابن أبي بكرة عن أبيه قال: (ذكر) (٢) رسول اللَّه ﷺ أرضا يقال: لها البصرة أو البصيرة، إلى جنبها نهر يقال له: دجلة (ذو تحل) (٣) (كثيرة) (٤) (ينزل) (٥) به (بنو) (٦) قنطوراء (فتفترق) (٧) الناس ثلاثَ فرق: فرقة تلحق بأصلها وهلكوا، وفرقة تأخذ على أنفسها وكفروا، وفرقة يجعلون ذراريهم خلف ظهورهم فيقاتلون، قتلاهم شهداء يفتح اللَّه على بقيتهم (٨).حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک زمین کا تذکرہ کیا جسے بصرہ یا بصیرہ کہا جاتا ہے اس کے ایک طرف ایک نہر ہے جسے دجلہ کہا جاتا ہے کثیر کھجوروں والی وہاں بنو قنطو راء اتریں گے (جو ترک کو کہا جاتا ہے اور حاکم کے قول کے مطابق اس سے مراد روم کے نصرانی ہیں) لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے ایک گروہ اپنی اصل سے مل جائے گا اور ہلاک ہوجائے گا دوسرا گروہ اپنے نفسوں کو لے گا اور کفر کرے گا اور ایک گروہ اولاد کو پس پشت ڈال کر قتال کرے گا ان کے مقتولین شہداء ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے باقی رہنے والوں کو فتح عطاء کرے گا۔