حدیث نمبر: 40131
٤٠١٣١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا أبو شهاب عن الحسن بن عمرو (الفقيمي) (١) عن منذر الثوري عن (سعد) (٢) بن حذيفة قال: لما (تحسر) (٣) الناس سعيد بن العاص كتبوا بينهم كتابا أن لا يستعمل عليهم إلا رجلا يرضونه لأنفسهم ودينهم، فبينما هم كذلك إذ قدم حذيفة من المدائن فأتوه بكتابهم فقالوا: يا أبا ⦗٢٧٦⦘ عبد اللَّه (صنعنا) (٤) بهذا الرجل ما قد بلغك، ثم كتبنا هذا الكتاب وأحببنا (٥) أن لا نقطع أمرا دونك، (فنظر) (٦) في كتابهم وضحك وقال: واللَّه ما أدري أي الأمرين أردتم؟ أردتم أن تتولوا سلطان قوم ليس لكم؟ (أردتم) (٧) أن تردوا هذه الفتنة حيث (اطلعت) (٨) خطامها (واستوت) (٩)، إنها (لمرسلة) (١٠) من اللَّه في الأرض ترتعي حتى تطأ على خطامها، لن (يستطيع) (١١) أحد من الناس لها (ردا) (١٢)، وليس أحد من الناس يقاتل فيها إلا قتل حتى (يبعث) (١٣) اللَّه (قزعا كقزع) (١٤) الخريف يكون (بهم بينهم) (١٥) (١٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعد بن حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا جب لوگوں نے حضرت سعید بن عاص کو معزول کرنے پر موافقت کرلی تو آپس میں انہوں نے ایک تحریر لکھی کہ ان پر عامل نہیں بنایا جائے گا مگر وہ آدمی جس پر وہ اپنے لیے اور اپنے دین کے لیے راضی ہوں گے وہ لوگ اسی حالت پر تھے اچانک حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن سے تشریف لائے اپنی تحریر لے کر ان کے پاس گئے اے ابو عبداللہ ہم نے اس آدمی کے ساتھ وہ معاملہ کیا ہے ہے جو آپ کو پہنچا ہے پھر ہم نے یہ تحریر لکھی ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے بغیر ہم کسی امر کا یقینی فیصلہ نہ کریں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تحریر کو دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں دونوں امروں میں سے کس کا تم نے ارادہ کیا ہے ایسے لوگوں کی ولایت کا ارادہ کیا ہے جو تمہارے فائدے کے لیے نہیں ہے یا تم نے ارادہ کیا ہے اس فتنے کو لوٹا نے کا اس مقام کی طرف جہاں یہ بےمہار ہوجائے گا اور مضبوط ہوجائے گا۔ بلاشبہ یہ فتنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر بھیجا جاتا ہے چرتا ہے یہاں تک اپنی لگام کو روندتا ہے کہ لوگوں میں سے کوئی بھی اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا لوگوں میں سے کوئی بھی اس میں قتال نہیں کرتا مگر قتل کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بدلی بھیجتے ہیں موسم خزاں کے بادلوں کی طرح وہ قتال انہی کے درمیان ہوجاتا ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (القمقمي).
(٢) في [جـ]: (سعيد).
(٣) في [س، ع]: (نحس).
(٤) في [س]: (ضعنا).
(٥) في [هـ]: زيادة (و).
(٦) في [ب]: (ونظر).
(٧) في [س]: تكرر.
(٨) في [ط، هـ]: (اطلقت).
(٩) في [س]: (وشوت).
(١٠) في [س]: (لمرحلة).
(١١) في [أ، ب]: (تستطيع).
(١٢) في [أ، ب]: (زاد).
(١٣) في [أ، س]: (بعث).
(١٤) في [س]: (قرعًا كقراع).
(١٥) سقط من: [س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40131
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سعد بن حذيفة صدوق، وأخرجه الحاكم ٤/ ٥٠٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40131، ترقيم محمد عوامة 38503)