مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40130
٤٠١٣٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا شعبة بن الحجاج عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: جلد خالد بن الوليد رجلًا حدًا، فلما كان من الغد جلد رجلا آخر حدا، فقال (رجل) (١): هذه واللَّه الفتنة، جلد أمس رجلًا في حد، وجلد اليوم رجلًا في حد، فقال خالد: ليست هذه بفتنة، إنما الفتنة أن (تكون) (٢) في أرض يعمل فيها بالمعاصي (فتريد) (٣) أن تخرج منها إلى أرض لا يعمل فيها بالمعاصي فلا تجدها (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت خالد بن ولید نے ایک آدمی کو بطور حد کوڑے لگائے جب دوسرا دن ہوا دوسرے آدمی کو بطور حد کوڑے لگائے ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم یہ تو فتنہ ہے گزشتہ کل ایک آدمی کو حد میں کوڑے لگائے اور آج دوسرے آدمی کو حد میں کوڑے لگائے ہیں حضرت خالد بن ولید نے فرمایا یہ فتنہ نہیں ہے فتنہ تو یہ ہوتا ہے کہ ایک زمین پر بیشمار گناہ کیے جائں تو یہ چاہے کہ ایسی زمین کی طرف نکل جائے جہاں گناہ نہ کیے جاتے ہوں پس تو ایسی زمین نہ پائے۔
حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (يكون).
(٣) في [س]: (فيزيد).