مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40129
٤٠١٢٩ - حدثنا وكيع ويزيد بن هارون (١) قالا: أخبرنا عمران بن (حدير) (٢) عن رفيع أبي (كثيرة) (٣) (قال) (٤): سمعت أبا الحسن عليا يقول: تمتلئ الأرض ظلما وجورا حتى يدخل كلَّ بيتٍ خوفٌ وحرب، يسألون درهمين و (جريبين) (٥) فلا يعطونه، فيكون (تقتال بتقتال) (٦) و (تسيار بتسيار) (٧) حتى يحيط اللَّه بهم في ⦗٢٧٥⦘ (مصره) (٨)، ثم تملأ الأرض عدلا وقسطا. - وقال وكيع: حتى يحيط اللَّه بهم في (قصره) (٩) (١٠).مولانا محمد اویس سرور
حضرت رفیع ابی کثیرہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے ابو الحسن علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ زمین ظلم اور زیادتی سے بھر جائے گی یہاں تک کہ ہر گھر میں خوف اور لڑائی داخل ہوگی دو درہم اور دو جریب مانگیں گے انہیں نہیں دیا جائے گا (جریب ٨ قفیز کے برابر پیمانے کو کہتے ہیں) لڑائی کے مقابلے میں لڑائی ہوگی اور لشکر لشکروں کے مقابلے میں چلیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کا احاطہ کریں گے ان کے شہر میں پھر زمین عدل و انصاف سے بھر دی جائے گی۔
حواشی
(١) في [ع]: زيادة (قال).
(٢) في [أ، ب]: (جدير).
(٣) في [أ، هـ]: (كبيرة)، وفي [ط]: (كثير).
(٤) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (قالا).
(٥) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (جربيان).
(٦) في [جـ، ع]: (قتال بقتال)، وفي [س]: (بقتال لقتال).
(٧) في [جـ]: (سيار بسيار)، وفي [ع]: (بسار بيسار)، وفي [س]: (يسير بسير).
(٨) في [س]: (قصيره).
(٩) في [س]: (قصيره).
(١٠) مجهول؛ لجهالة رفيع أبي كثيرة والد عبد العزيز.