مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٢٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة قال: حدثنا أبو حصين الأسدي عن عامر عن ثابت بن قطبة عن عبد اللَّه قال: الزموا هذه الطاعة والجماعة، فإنه حبل اللَّه الذي أمر به، وأن ما (تكرهون) (١) في الجماعة خير مما تحبون في الفرقة، إن اللَّه ⦗٢٧١⦘ لم يخلق شيئا (قط) (٢) إلا جعل له منتهى، كان هذا الدين (قد تم) (٣)، وإنه صائر إلى نقصان، وإن إمارة ذلك أن تنقطع الأرحام، ويؤخذ المال بغير حقه، (وتسفك) (٤) الدماء و (يشتكي) (٥) ذو القرابة قرابته لا (يعود) (٦) عليه بشيء، ويطوف السائل بين (جمعتين) (٧) لا يوضع في يده شيء، (فبينما هم) (٨) كذلك (إذ) (٩) خارت الأرض خوار البقرة يحسب كل أناس أنها خارت من قبلهم، (فبينا) (١٠) الناس (كذلك) (١١) إذ قذفت الأرض بأفلاذ كبدها من الذهب (و) (١٢) الفضة، لا ينفع بعد شيء منه ذهب ولا فضة (١٣).حضرت عبداللہ سے روایت ہے فرمایا کہ اس اطاعت اور جماعت کو لازم پکڑو بلاشبہ یہ اللہ کی وہ رسی ہے جس کے تھامنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور بلاشبہ جو چیزیں تمہیں جماعت میں ناپسندیدہ ہیں وہ ان سے بہتر ہیں جو تمہیں جدائی میں پسند ہیں اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی چیز پیدا نہیں کی مگر اس کی انتہا مقرر کی ہے یہ دین یقینا کا مل ہوچکا اور اب نقصان کی طرف جانے والا ہے اور اس نقصان کی علامت یہ ہے کہ رشتے داریاں ختم ہوجائیں گی ناحق مال لیا جائے گا خون بہائے جائیں گے قرابت والا اپنے قریبی رشتے داروں کی شکایت کرے گا کہ وہ اسے کچھ نہیں دیتے مانگنے والا دو جمعے چکر لگائے گا اس کے ہاتھ پر کچھ بھی نہیں رکھا جائے گا لوگ اسی حالت پر ہوں گے یکایک زمین گائے کی طرح آواز نکالے گی سارے لوگ یہ خیال کریں گے کہ یہ ہماری جانب میں آواز نکال رہی ہے لوگ اسی حالت پر ہوں گے اچانک زمین اپنے جگر کے ٹکڑے یعنی سونا اور چاندی نکالے گی اس کے بعد اس سونا چاندی سے کوئی نفع نہیں ہوگا۔