حدیث نمبر: 40119
٤٠١١٩ - حدثنا جعفر بن عون عن هشام بن عروة أن ابن الزبير كان (يشد) (١) عليهم حتى يخرجهم (من) (٢) الأبواب ويقول: لو كان (قرني) (٣) واحدًا كفيته لسنا على الأعقاب تدمي كلومنا … ولكن على أقدامنا تقطر الدما (٤)
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن زبیر ان پر حملہ کرتے تھے یہاں تک کہ ان کو دروازوں سے نکال دیتے تھے اور کہتے تھے اگر میرا مقابل اکیلا ہو تو میں اس کے لیے کافی ہوں اور شعر بھی پڑھتے۔ وَلَسْنَا عَلَی الأَعْقَابِ تَدْمَی کُلُومُنَا ۔۔۔ وَلَکِنْ عَلَی أَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدِّمَا۔ ہماری ایڑیوں پر ہمارے زخموں کے خون نہیں گرتے بلکہ ہمارے قدموں پر خون کے قطرات گرتے ہیں (مرادیہ ہے کہ ہم دشمن کا سامنا کرتے ہوئے لڑتے ہیں پشت پھیر کر نہیں بھاگتے)

حواشی
(١) في [جـ، س]: (يسد)، وفي [ب]: (شد).
(٢) في [ط، هـ]: (عن).
(٣) في [س]: (مرني).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40119
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه يحيى بن معين في تاريخه رواية الدوري ٣/ ٢٩ (١٢٥)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٣٣، والفاكهي (١٦٥٧)، وابن عساكر ٢٨/ ٢٢٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40119، ترقيم محمد عوامة 38491)