مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١١٦ - حدثنا محمد بن كناسة عن إسحاق عن أبيه قال: أتى مصعب بن الزبير عبد اللَّه بن (عمر) (١) وهو يطوف بين الصفا والمروة فقال: من أنت؟ قال: ابن أخيك مصعب بن الزبير، قال: صاحب العراق؟ قال: نعم، قال: جئت لأسألك عن قوم خلعوا الطاعة وسفكوا الدماء (وجمعوا) (٢) الأموال فقوتلوا (فغلبوا) (٣) فدخلوا قصرا (فتحصنوا) (٤) فيه، ثم سألوا الأمان فأعطوه ثم قتلوا، قال: وكم العدة؟ قال: خمسة آلاف، قال: فسبح ابن عمر عند ذلك، وقال: عمرك اللَّه! يا ابن الزبير لو أن رجلا أتى (ماشية) (٥) الزبير فذبح منها في غداة خمسة آلاف أكنت تراه مسرفا؟ قال: نعم، قال: فتراه إسرافا في بهائم لا تدري ما اللَّه، وتستحله ممن هلل اللَّه يوما واحدا (٦).اسحاق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضرت مصعب بن زبیر حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے جبکہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر رہے تھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا تم کون ہو انہوں نے بتلایا آپ کا بھتیجا مصعب بن زبیر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا عراق والے انہوں نے فرمایا جی ہاں مصعب بن زبیر نے فرمایا میں آپ کے پاس ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جو اطاعت سے نکل چکے ہیں اور خون بہا چکے ہیں اور مالوں کو واجب کرچکے ہیں ان سے لڑائی کی گئی اور ان پر غلبہ پا لیا گیا وہ ایک محل میں داخل ہوئے اس میں محصور ہوگئے پھر انہوں نے امان طلب کی ان کو امن دے دیا گیا پھر قتل کردیا گیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا ان کی تعداد کتنی تھی انہوں نے بتلایا پانچ ہزار راوی نے فرمایا اس وقت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سبحان اللہ کہا اور فرمایا اے ابن زبیر اللہ تجھے عمر عطا فرمائے اگر کوئی آدمی زبیر کے مویشیوں میں آئے اور ان میں سے ایک صبح میں پانچ ہزار کو ذبح کردے کیا آپ اسے حد سے بڑھنے والا سمجھتے ہو حضرت مصعب نے جواب میں کہا جی ہاں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم ان چوپاؤں میں زیادتی سمجھتے ہو جو اللہ کو نہیں جانتے اور ان کے خون کو حلال سمجھتے ہو ایک ہی دن میں جو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں کلمہ پڑھتے ہیں۔