مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40115
٤٠١١٥ - حدثنا محمد (بن كناسة) (١) عن إسحاق بن سعيد عن أبيه قال: أتى عبد اللَّه بن عمر (٢) عبد اللَّه بن الزبير فقال: يا ابن الزبير! إياك والإلحأأاد (٣) في (حرم اللَّه) (٤)؟ فإني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إنه سيلحد فيه رجل من قريش لو أن ذنوبه توزن بذنوب الثقلين لرجحت عليه"، فانظر (أن) (٥) ⦗٢٦٩⦘ لا تكونه (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر حضرت عبداللہ بن زبیر کے پاس آئے اور فرمایا اے ابن زبیر حرم میں الحاد کرنے سے بچو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب حرم میں قریش میں سے ایک آدمی الحاد پھیلائے گا اگر اس کے گناہ جنوں اور انسانوں کے گناہوں کے ساتھ تو لے جائیں تو ان سے زیادہ ہوجائیں پس تم دیکھو وہ آدمی نہ ہوجانا۔
حواشی
(١) انظر: تاريخ دمشق لابن عساكر ٢٨/ ٢٢١، وتاريخ الإسلام للذهبي ٦/ ١٩٢، والبداية والنهاية ٨/ ٣٤٠.
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [س]: (الإتحاذ).
(٤) في [أ]: (حرمه).
(٥) سقط من: [س].
(٦) رجاله ثقات؛ ولكن فيه وهم، أخرجه أحمد (٦٢٠٠)، والحاكم ٢/ ٣٨٨، وابن عساكر ٢٨/ ٢٢٠، وصوب جماعة أنه من رواية ابن عمرو بن العاص، كما أخرجه أحمد (٦٨٤٨)، ورجحوا وقفه.