حدیث نمبر: 40114
٤٠١١٤ - حدثنا (ابن فضيل) (١) عن سالم بن (أبي) (٢) حفصة عن منذر قال: كانت عند ابن الحنفية فرأيته (يتقلب) (٣) على فراشه (وينفخ) (٤)، فقالت له (امرأته) (٥): ما (يكربك) (٦) من أمر عدوك هذا ابن الزبير؟ فقال: (واللَّه) (٧) ⦗٢٦٨⦘ (ما بي) (٨) عدو اللَّه، هذا ابن الزبير، ولكن بي ما يفعل في حرمه (غدا) (٩)، (قال) (١٠): ثم رفع يديه إلى السماء ثم قال: اللهم أنت تعلم أني كنت أعلم (مما علمتني) (١١) أنه (يخرج) (١٢) (منها) (١٣) (قتيلا) (١٤) يطاف برأسه في الأمصار (أو) (١٥) في الأسواق (١٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت منذر سے روایت ہے میں محمد بن حنفیہ کے پاس تھا میں نے ان کو دیکھا کہ اپنے بستر پر کروٹیں بدل رہے تھے اور پھونکیں مار رہے تھے ان سے ان کی اہلیہ نے کہا کیا چیز آپ کو بےچین کر رہی ہے آپ کے دشمن ابن زبیر کے امر سے تو انہوں نے کہا مجھے اللہ کے دشمن ابن زبیر کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں بلکہ مجھے پریشانی اس بات کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حرم میں کل کو کی جائے گی راوی فرماتے ہیں پھر انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے آسمان کی طرف اور فرمایا اے اللہ آپ جانتے ہیں کہ جو آپ نے مجھے سکھایا بلا شبہ وہ (مراد بن زبرن تھے) حرم سے قتل کیا ہوا نکالا جائے گا اس کے سر کو شہروں میں فرمایا یا بازاروں میں فرمایا چکر لگوایا جائے گا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (ابن نمير).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب، س]: (يقلب)، وفي [هـ]: (يتقلب).
(٤) في [س]: (يفتح).
(٥) في [س]: (امرأة).
(٦) في [جـ]: (يكرثك).
(٧) في [أ، ب، س، ع]: (ما واللَّه).
(٨) في [أ، ب، س، ع]: (ما لي).
(٩) في (س): (عدا).
(١٠) سقط من: [أ، ب].
(١١) في [ع]: (منا على)، وفي [جـ]: (منا علمي)، وسقط من: [أ، ب].
(١٢) في [جـ، ع]: (يحرم)، وسقط من: [س].
(١٣) في [أ، ب]: (منا).
(١٤) في [س]: (فيلا).
(١٥) في (س): (و).
(١٦) انظر: تاريخ دمشق لابن عساكر ٢٨/ ٢٢١، وتاريخ الإسلام للذهبي ٦/ ١٩٢، والبداية والنهاية ٨/ ٣٤٠.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40114
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40114، ترقيم محمد عوامة 38486)