مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١١٢ - حدثنا خلف بن خليفة عن أبيه قال: (أُخبرت) (١) أن الحجاج (حين) (٢) قتل ابن الزبير جاء به إلى منى فصلبه عند الثنية في بطن الوادي، ثم قال للناس: انظروا إلى هذا، هذا شر الأمة، فقال: إني رأيت ابن عمر جاء على بغلة له فذهب ليدنيها من الجذع فجعلت تنفر، فقال لمولى له: ويحك! خذ بلجامها فأدنها ⦗٢٦٧⦘ (قال) (٣): فرأيته أدناها فوقف عبد اللَّه بن عمر وهو يقول: (رحمك) (٤) اللَّه، إن كانت لصوامًا قوامًا، ولقد أفلحت أمة أنت شرها (٥).حضرت خلف بن خلیفہ اپنے والد حضرت خلیفہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا مجھے یہ خبر دی گئی کہ حجاج نے جب حضرت عبداللہ بن زبیر کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو ان کو منیٰ کی طرف لے گیا اور ان کو بطن وادی میں گھاٹی کے پاس پھانسی دی پھر اس نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ اپنے خچر پر تشریف لائے وہ اسے قریب کر رہے تھے تنے کے اور وہ بدک رہی تھی انہوں نے اپنے غلام سے فرمایا تیرے لیے ہلاکت ہو اس کی لگام پکڑ اور اسے قریب کر راوی فرماتے ہیں اس نے اس خچر کو قریب کیا حضرت عبداللہ بن عمر ٹھہرے اور یہ فرما رہے تھے اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تم روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے تھے وہ امت فلاح پا گئی جس کے تم شرو برائی ہو۔