حدیث نمبر: 40110
٤٠١١٠ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن ابن أبي مليكة قال: أتيت أسماء بعد قتل عبد اللَّه بن الزبير (فقالت) (١): بلغني أنهم صلبوا عبد اللَّه منكسا، وعلقوا معه هرة، واللَّه إني لوددت أني لا أموت حتى يدفع إليَّ فأغسله وأحنطه وأكفنه ثم أدفنه، فما لبثوا أن جاء كتاب عبد الملك أن يدفع إلى أهله، (فأتيت) (٢) به أسماء فغسلته وحنطته وكفنته ثم دفنته (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن ابی ملیکہ سے رو ایت ہے انہوں نے فرمایا میں حضرت اسمائ کے پاس آیا حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے بعد حضرت اسمائ نے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ کو اوندھے منہ کرکے پھانسی دی ہے اور ان کے ساتھ بلی کو لٹکایا ہے اللہ کی قسم میں یہ چاہتی ہوں کہ مجھے موت نہ آئے یہاں تک وہ مجھے عبداللہ کو دے دیں میں اسے غسل دوں گی اور اسے خوشبو لگاؤں گی اور اسے کفناؤں گی پھر اسے دفن کروں گی تھوڑی ہی دیر کے بعد عبدالملک کا خط آگیا کہ انہیں ان کے گھر والوں کے سپرد کردیا جائے پھر حضرت اسماء نے ان کو غسل دیا اور ان کو خوشبو لگائی اور ان کو کفن دیا پھر ان کو دفنا دیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (فقلت).
(٢) في [أ، ب]: (فاتت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40110
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ٢/ ٥٦، وابن الجوزي في المنتظم ٦/ ١٣٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40110، ترقيم محمد عوامة 38482)