حدیث نمبر: 40109
٤٠١٠٩ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: دخلت أنا وعبد اللَّه ابن الزبير على أسماء قبل قتل عبد اللَّه بن الزبير بعشر ليال وأسماء (وجعة) (١)، فقال لها عبد اللَّه: كيف تجدينك؟ قالت: وجعة، قال: إن في الموت (لعافية) (٢)، قالت: لعلك تشتهي موتي، فلذلك تمناه، فواللَّه ما أشتهي أن تموت حتى نأتي على أحد (طرفيك) (٣) إما أن تُقتل فأحتسبك وإما أن تَظهر فتقر عيني، فإياك أن تُعرض عليك خطبة لا توافقك، فتقبلها كراهة الموت، وإنما عنى ابن الزبير ليقتل فيحزنها بذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہشام بن عروہ حضرت عروہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا میں اور عبداللہ بن زبیر شہادت سے دس راتیں پہلے حضرت اسمائ کے پاس آئے حضرت اسماء بیمار تھیں حضرت عبداللہ نے ان سے کہا آپ کیسے پاتی ہیں انہوں نے فرمایا بیمار ہوں حضرت عبداللہ نے ان سے کہا آپ کیسے پاتی ہیں انہوں نے فرمایا بیمار ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا موت میں عافیت ہے حضرت اسماء نے فرمایا شاید تم میری موت کو چاہتے ہو کہ اسی کی تمنا کر رہے ہو اللہ کی قسم میں…چاہتی تھی کہ تمہیں موت آئے یہاں تک کہ کہ دو باتوں میں سے ایک پر تم آؤ…تمہیں قتل کردیا جائے تو میں تمہاری وجہ سے ثواب کی امید رکھوں یا تو غالب آجائے تو میری آنکھ ٹھنڈی ہوجائے اس بات سے بچنا کہ تم پر ایسا خطہ پیش کیا جائے جو تمہارے موافق نہ ہو اور تم اسے موت کی کراہت و ناپسندیدگی کی وجہ سے قبول کرلو حضرت عبداللہ کی مراد یہ تھی کہ انہیں قتل کردیا جائے گا اور یہ بات حضرت اسمائ کو غمگین کرے گی۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (عاقبة).
(٣) في [أ، ب]: (طرفيه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40109
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري في الأدب المفرد (٥١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40109، ترقيم محمد عوامة 38481)