مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٠٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال: لما (بويع) (١) لعلي أتاني فقال: إنك امرؤ محبب في أهل الشام، فإني قد استعملتك عليهم فسر إليهم، قال: فذكرت القرابة وذكرت الصهر، فقلت: أما بعد، فواللَّه (لا) (٢) أبايعك، قال: فتركني وخرج، فلما كان بعد ذلك جاء ابن عمر إلي (أم) (٣) كلثوم فسلم عليها وتوجه إلى مكة فأتى علي، فقيل له: إن ابن عمر قد توجه إلى الشام فاستنفر الناس، قال: فإن كان الرجل ليعجل حتى يلقي رداءه في عنق بعيره، قال: و (أُتيتْ) (٤) أم كلثوم فأُخبرتْ، (فأرسل) (٥) إلى أبيها: ما الذي تصنع؟ قد جاءني الرجل وسلم علي وتوجه إلى مكة فتراجع الناس (٦).حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو وہ میرے پاس آئے اور ارشاد فرمایا آپ ایسے آدمی ہو جو اہل شام کے ہاں محبوب ہو میں نے تمہیں ان پر عامل مقرر کیا ہے تم ان کے پاس جاؤ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں نے قرابت اور سسرالی رشتے کو یاد کیا اور میں نے کہا حمدو صلاۃ کے بعد اللہ کی قسم میں آپ کی بیعت نہیں کروں گا انہوں نے (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) فرمایا انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور نکل گئے اس کے بعد جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت ام کلثوم کے پاس آئے ان کو سلام کیا اور مکہ کی طرف متوجہ ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ان سے کہا گیا بلاشبہ ابن عمر رضی اللہ عنہما شام کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور لوگوں کو لڑائی کے لیے جمع کررہے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر یہ آدمی جلدی کرے یہاں تک کہ اپنی چادر اپنے اونٹ کی گردن میں ڈال دے راوی نے فرمایا حضرت ام کلثوم کے پاس کوئی آیا اور ان کو خبر دی گئی انہوں نے اپنے والد کو پیغام بھیجا آپ کیا کررہے ہیں وہ آدمی میرے پاس آیا مجھے سلام کیا اور مکہ کی طرف چلا گیا پس لوگ واپس ہوگئے۔