حدیث نمبر: 40107
٤٠١٠٧ - حدثنا يحيى بن آدم عن فطر قال: حدثنا منذر الثوري عن محمد بن علي بن الحنفية قال: اتقوا (١) هذه الفتن فإنها لا يستشرف لها أحد إلا استبقته، (ألا) (٢) إن هؤلاء القوم لهم (أجل) (٣) ومدة، لو اجتمع من في الأرض أن يزيلوا ملكهم لم يقدروا على ذلك، حتى يكون اللَّه (هو) (٤) الذي يأذن فيه أتستطيعون أن تزيلوا هذه الجبال.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہابن الحنفیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا…فتنوں سے بچو بلاشبہ ان کی طرف کوئی بھی نظر نہیں اٹھاتا مگر یہ کہ وہ فتنہ اس پر سبقت لے جاتا ہے آگاہ و خبردار ہو ان لوگوں کے لیے موت اور مقررہ مدت ہے۔ اگر جو لوگ زمین میں ہیں وہ جمع ہوجائیں اس بات پر کہ ان کے ملک کو ختم کردیں تو وہ اس پر قادر نہیں ہوں گے یہاں تک اللہ تعالیٰ اس کی اجازت دے کیا تم طاقت رکھتے ہو اس بات کی کہ ان پہاڑوں کو ہٹا دو ۔

حواشی
(١) في [س]: زيادة (اللَّه).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (أكل)، وتقدم الخبر ١١/ ١٣٣ برقم [٣٢٦٩٩].
(٤) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40107
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40107، ترقيم محمد عوامة 38479)