مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠١٠٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: كان قيس بن سعد ابن عبادة مع علي على (مقدمته) (١) ومعه خمسة آلاف قد حلقوا رؤوسهم بعد ما مات علي، فلما دخل الحسن في بيعة معاوية أبى قيسٌ أن يدخل، فقال لأصحابه: ⦗٢٦٤⦘ ما شئتم؟ إن شئتم جالدت بكم أبدا حتى يموت الأعجل، وإن شئتم أخذت لكم (أمانا) (٢)، فقالوا: خذ لنا (أمانا) (٣)، فأخذ لهم أن لهم كذا وكذا، وأن لا (يعاقبوا) (٤) (بشيء) (٥)، وأني رجل منهم، ولم يأخذ لنفسه خاصة شيئًا، فلما ارتحل نحو المدينة ومضى بأصحابه جعل ينحر لهم كل يوم جزورا حتى بلغ (٦).حضرت عروہ سے روایت ہے فرمایا کہ قیس بن سعد بن عبادہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے مقدمۃ الجیش پر امیر تھے اور ان کے ساتھ پانچ معزز افراد تھے انہوں نے حلقہ بنایا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی حضرت قیس نے بیعت میں داخل ہونے سے انکار کیا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کیا چاہتے ہو اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ مل کر ہمیشہ لڑائی کرتا رہوں ۔ یہاں تک کہ زیادہ جلدی کرنے والا مرجائے اور اگر تم چاہوں تو تمہارے لیے امان لے لوں انہوں نے کہا ہمارے لیے (امان) لے لیں انہوں نے ان کے لیے (عہد) لیا کہ ان کے لیے یہ یہ ہوگا اور ان کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی اور میں ان میں سے ایک آدمی بنوں اور اپنے لیے کوئی خاص عہد نہ لیا جب انہوں نے مدینہ کی طرف کوچ کیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر چلے تو ان کے لیے ہر دن ایک اونٹ ذبح کرتے تھے یہاں تک کہ (مدینہ) پہنچ گئے۔