حدیث نمبر: 40100
٤٠١٠٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن سعيد بن عبد العزيز عن مكحول قال: قال عمر: أيها الناس! هاجروا قبل الحبشة، تخرج من أودية بني علي نار (١) تقبل من قبل اليمن تحشر الناس، تسير إذا ساروا، وتقيم إذا (ناموا) (٢)، حتى إنها لتحشر ⦗٢٦٢⦘ (الجعلان) (٣) حتى تنتهي بهم إلى (بصرى) (٤)، وحتى أن الرجل ليقع فيقف حتى تأخذ (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! حبشہ کی طرف ہجرت کرو بنی علی رضی اللہ عنہ کی وادیوں سے آگ نکلے گی جو یمن کی جانب سے آئے گی لوگوں کو اکٹھا کرے گی چلے گی جب وہ لوگ چلیں گے…اور ٹھہر جائے گی جب وہ سو جائیں گے یہاں تک کہ وہ نگرانوں کو جمع کرے گی اور ان کو بصری تک پہنچا دے گی اور ایک آدمی گرپڑے تو وہ ٹھہر جائے گی یہاں تک کہ اسے پکڑے گی۔

حواشی
(١) في [أ، ب، س]: زيادة (واو).
(٢) في [ط، هـ]: (أقاموا).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [أ]: (بصرًا).
(٥) منقطع؛ مكحول لم يسمع من عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40100
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40100، ترقيم محمد عوامة 38472)