مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠٠٩٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس عن رجل عن أبي ذر قال: أقبل رسول اللَّه ﷺ من سفر، (فلما) (١) دنا من المدينة تعجل قوم على (رأياتهم) (٢)، فأرسل (فجيء) (٣) بهم فقال: "ما أعجلكم؟ " قالوا: أو ليس قد أذنت لنا، قال: "لا، ولا (شبهت) (٤) ولكنكم تعجلتم إلى النساء بالمدينة"، ثم قال: "ألا ليت شعري متى تخرج نار من قبل جبل الوراق تضيء لها أعناق الإبل بروكا إلى برك الغماد من عدن أبين كضوء النهار" (٥).حضرت ابوذر سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر سے واپسی فرما رہے تھے جب مدینہ منورہ کے قریب ہوئے تو لوگوں نے اپنے جھنڈوں کے ساتھ جلدی کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا ان کو لایا گیا آپ نے فرمایا کس چیز نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا انہوں نے عرض کیا کیا آپ نے ہمیں اجازت نہیں دی ؟ آپ نے فرمایا نہیں اور نہ ہی میں تشبیہ دی ہے۔ لیکن تم نے مدینہ میں عورتوں کی طرف جلدی کی پھر فرمایا ایک وقت آئے گا جب جبل وراق کی جانب سے ایک آگ ظاہر ہوگی، اس آگ کی وجہ سے عدن کے برک الغماد میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنیں دن کی روشنی سے زیادہ روشن ہوجائیں گی۔