حدیث نمبر: 40087
٤٠٠٨٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: (سمعت) (١) أبا وائل يحدث عن الحارث بن (حبيش) (٢) الأسدي قال: بعثني سعيد بن العاص بهدايا إلى أهل المدينة وفضل عليًا، قال: وقال في: قل له: إن ابن أخيك يقرئك السلام ويقول: ما بعثت إلى أحد بأكثر مما بعثت إليك إلا ما كان في خزائن أمير المؤمنين، فقال علي: أشد ما يحزن علي ميراث محمد (٣)، أما واللَّه لئن ملكتها لأنفضنها نفض (الوذام) (٤) (التربة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حارث بن حبیش اسدی نے فرمایا مجھے حضرت سعید بن عاص نے کچھ ہدایا دے کر مدینہ والوں کی طرف بھیجا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فضیلت دی (ہدایا میں) راوی نے فرمایا مجھ سے حضرت سعید بن عاص نے فرمایا ان سے کہنا آپ کے چچا کا بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا تھا اور کہہ رہا تھا میں نے کسی کی طرف اس سے زیادہ نہیں بھیجا جتنا آپ کی طرف بھیجا ہے سوائے اس کے جو امیرالمؤمنین کے خزانے میں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا سب سے زیادہ جس بات کا مجھے غم ہے وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میراث ہے باقی اگر میں اس کا مالک ہوجاؤں تو اسے جھاڑ دوں جگر کے گوشت کے ٹکڑے کو مٹی سے جھاڑنے کی طرح۔

حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ط، هـ]: (حنش).
(٣) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٤) في [س]: (الورم)، وسقط من: [ع].
(٥) في [ع]: (التراب)، أي: مثل نفض قطعة اللحم التي سقطت في التراب لإزالة التراب عنها.
(٦) مجهول؛ لجهالة الحارث، أخرجه أحمد في العلل ٢/ ١٦٣ (١٨٧٦)، وأبو عبيد في غريب الحديث ٣/ ٤٣٨، والأصبهاني في الأغاني ١٢/ ١٦٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40087
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40087، ترقيم محمد عوامة 38459)