حدیث نمبر: 40083
٤٠٠٨٣ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا سفيان عن المغيرة بن النعمان عن عبد اللَّه بن الأقنع الباهلي عن الأحنف بن قيس قال: كانت جالسا في مسجد المدينة، فأقبل رجل لا تراه حلقة إلا فروا منه حتى انتهى إلى الحلقة التي كنت فيها، ⦗٢٥٦⦘ فثبت وفروا، فقلت: من أنت؟ فقال: أبو ذر صاحب رسول اللَّه ﷺ، (قلت) (٢): (ما) (٣) يُفر الناسَ مثك؟ قال: إني أنهاهم عن الكنوز، قال: قلت: إن أعطياتنا قد بلغت وارتفعت فتخاف علينا منها، قال: أما اليوم فلا، ولكنها (يوشك) (٤) أن يكون (أثمان) (٥) دينكم، فإذا كانت أثمان دينكم (فدعوهم) (٦) (وإياها) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت احنف بن قیس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں مدینہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ایک صاحب آئے کہا کہ کوئی بھی (بیٹھنے والاحلقہ ان کو نہیں دیکھتا تھا مگر یہ کہ ان سے بھاگ جاتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ اس حلقے میں آگئے جس میں میں تھا پس میں ٹھہرا رہا اور دیگر لوگ بھاگ گئے۔ میں نے کہا آپ کون ہیں ؟ انہوں نے بتلایا ابو ذر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھی۔ میں نے عرض کیا آپ سے لوگ کیوں بھاگے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا اس وجہ سے کہ میں ان کو خزانے جمع کرنے سے روکتا ہوں۔ حضرت احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ بیشک ہمارے عطیات کثیر تعداد کو پہنچ چکے ہیں اور بلند ہوچکے ہیں۔ کیا آپ ہم پر ان کی وجہ سے خوف کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اس وقت میں تو نہیں لیکن قریب ہے کہ وہ تمہارے دین کی قیمت بن جائیں۔ اس وقت ان عطیات سے اجتناب کرنا۔

حواشی
(١) في [ط]: (بشير).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [هـ]: (لما)، وفي [ط]: (لم).
(٤) في [ع]: (توشك).
(٥) في [أ، ب]: (إيمان).
(٦) في [جـ، ط، هـ]: (فدعوها).
(٧) في [ط، هـ]: (إياهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40083
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن الأقنع صدوق، وأخرجه أحمد (٢١٤٥١)، والحاكم ٤/ ٥٢٢، وبنحوه البخاري (١٤٠٧)، ومسلم (٩٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40083، ترقيم محمد عوامة 38455)