حدیث نمبر: 40075
٤٠٠٧٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل قال: حدثني رجل كان يبيع الطعام، قال: لما قدم حذيفة على جوخا (١) أتى أبا مسعود (يسلم) (٢) عليه، فقال (أبو مسعود) (٣): ما شأن سيفك هذا [يا أبا عبد اللَّه؟ قال: أمرني عثمان على (جوخا) (٤)، فقال: يا أبا عبد اللَّه!] (٥) أتخشى أن تكون هذه فتنة حين طرد الناس سعيد ابن العاص، قال له حذيفة: (أما) (٦) تعرف دينك يا أبا مسعود؟ قال: بلى، قال: فإنها (٧) لا تضرك الفتنةُ ما عرفت دينَك، إنما الفتنة إذا اشتبه عليك الحق والباطل فلم تدر أيهما تتبع، فتلك الفتنة (٨).
مولانا محمد اویس سرور

اسماعیل سے روایت ہے فرمایا کہ ہم سے ایک صاحب نے بیان کیا جو گندم فروخت کرتے تھے انہوں نے فرمایا جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بغداد کے صوبے میں آئے تو حضرت ابو مسعود انصاری کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا حضرت ابو مسعود نے پوچھا تمہاری تلوار کی کیا حالت ہے اے ابو عبداللہ انہوں نے فرمایا حضرت عثمان نے مجھے اس صوبے پر امیر مقرر کیا ہے انہوں نے فرمایا اے ابو عبداللہ کیا تمہیں اس کا خوف ہے کہ یہ فتنہ ہو جبکہ لوگوں نے حضرت سعید بن عاص کو نکال دیا ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کیا تم اپنے دین کو نہیں جانتے اے ابو مسعود انہوں نے فرمایا کیوں نہیں تو پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بلاشبہ تمہیں فتنہ نقصان نہیں پہنچائے گا جب تک تم اپنے دین کو پہچانتے ہو فتنہ تو اس وقت ہے جب حق اور باطل تم پر مشتبہ ہوجائے اور تمہیں پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس کی پیروی کرو پس یہ فتنہ ہے۔

حواشی
(١) موضع في بغداد.
(٢) في [أ، ب]: (فسلم).
(٣) في [هـ]: (أبوه).
(٤) في [ع]: (جوها).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، س].
(٦) في [ع]: (ما).
(٧) في [س]: زيادة (لا نصرف).
(٨) مجهول؛ لإبهام الرجل.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40075
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40075، ترقيم محمد عوامة 38447)