مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠٠٧١ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثني أبو حيان عن أبي زرعة قال: جلس ثلاثة نفر من المسلمين إلى مروان بن الحكم فسمعوه يحدث عن الآيات: (أن) (١) أولها خروج الدجال، فانصرف النفر إلى عبد اللَّه بن (عمرو) (٢) فحدثوه بالذي سمعوه من مروان بن الحكم في الآيات أن أولها خروج الدجال، فقال عبد اللَّه: لم يقل مروان شيئا، قد حفظت من رسول اللَّه ﷺ حديثا لم أنسه بعد (٣) (سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول) (٤): "إن أول الآيات خروجًا: طلوع الشمس من مغربها أو خروج الدابة على الناس ضحى، وأيتهما ما كانت قبل صاحبتها فالأخرى على أثرها قريبًا"، ثم قال عبد اللَّه: وكان يقرأ الكتب: وأظن أولهما خروجا طلوع الشمس من مغربها، وذاك أنها كما غربت أتت تحت العرش فسجدت فاستأذنت في الرجوع فأذن لها (في الرجوع) (٥)، حتى إذا شاء اللَّه أن ⦗٢٥٢⦘ تطلع من مغربها أتت تحت العرش فسجدت واستأذنت (فلم يرد عليها بشيء) (٦)، ثم تعود فتستأذن في الرجوع فلا يرد عليها بشيء، ثم تعود فتستأذن في الرجوع فلا يرد عليها بشيء، حتى إذا ذهب من الليل ما شاء اللَّه أن يذهب، وعرفت أنها لو أذن لها لم تدرك المشرق قالت: رب ما أبعد المشرق؟ (٧) من لي بالناس، حتى إذا أضاء الأفق كأنه طرق استأذنت في الرجوع، قيل لها: مكانك فاطلعي، فطلعت على الناس من مغربها، ثم تلا عبد اللَّه هذه الآية (وذلك) (٨) ﴿يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ [الأنعام: ١٥٨] (٩).حضرت ابو زرعہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا تین آدمی مسلمانوں میں سے مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے ان سے سنا نشانیوں کے متعلق بیان کر رہے تھے کہ نشانیوں میں سے پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے وہ لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے اور جو مروان بن حکم سے نشانیوں سے متعلق سنا تھا وہ حضرت عبداللہ سے بیان کیا کہ پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے حضرت عبداللہ نے فرمایا مروان نے کوئی بات بیان نہیں کی میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ پہلی نشانی نشانیوں میں سے نکلنے میں سورج کا طلوع ہونا ہے مغرب سے یا جانور کا نکلنا ہے لوگوں پر چاشت کے وقت اور ان دونوں نشانیوں میں سے جو بھی دوسری نشانی سے پہلے ہوگی دوسری اس کے پیچھے قریب ہی واقع ہوجائے گی پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا وہ کتابیں پڑھتے تھے کہ میرا گمان ہے کہ ان دونوں نشانیوں سے پہلی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہوگی اور یہ اس وجہ سے کہ جب بھی وہ غروب ہوتا ہے عرش کے نیچے آتا ہے اور دوبارہ طلوع کی اجازت چاہتا ہے اسے دوبارہ طلوع کی اجازت دے دی جاتی ہے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ چاہیں گے کہ سورج مغرب سے طلوع ہو وہ عرش کے نیچے آئے گا اور سجدہ ریز ہوگا واپسی کی اجازت چاہے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا پھر لوٹے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا پھر لوٹے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا اسے کوئی جواب نہیں دیاجائے گا یہاں تک جب رات کا جتنا حصہ اللہ چاہیں گے گزر جائے گا اور سورج یہ جان لے گا کہ اگر اسے اجازت دی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا تو وہ عرض کرے گا اے میرے رب مشرق کتنی ہی دور ہے سورج عرض کرے گا اے میرے رب کون ہے میرے لیے لوگوں میں سے یہاں تک کہ جب افق روشن ہوگا گویا کہ طوق ہے واپسی کی اجازت چاہے گا اس سے کہا جائے گا تم پر لازم ہے تمہارا مقام طلوع ہو پس وہ طلوع ہوگا لوگوں پر مغرب سے پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت تلاوت کی جس دن تیرے پروردگار کی کوئی نشانی آئیگی اس دن کسی ایسے شخص کا ایمان کار آمد نہیں ہوگا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی نیک عمل کی کمائی نہ کی ہو۔