حدیث نمبر: 40068
٤٠٠٦٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي الطفيل عن حذيفة قال: تخرج الدابة مرتين قبل يوم القيامة حتى يُضرب فيها رجال، ثم تخرج الثالثة عند أعظم مساجدكم، فتأتي القوم وهم مجتمعون عند رجل (فتقول) (١): ما يجمعكم عند عدو اللَّه، فيبتدرون فتسم الكافر حتى إن (الرجلين) (٢) ليتبايعان فيقول هذا: خذ يا مؤمن، ويقول هذا: خذ يا كافر (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا ایک جانور قیامت سے پہلے دو مرتبہ نکلے گا یہاں تک کہ اس کے نکلنے کے موقع پر مردوں کو مارا جائے گا پھر تیسری مرتبہ نکلے گا تمہاری مساجد میں سے سب سے بڑی مسجد کے لوگوں کے پاس آئے گا اس حال میں کہ وہ ایک آدمی کے پاس مجتمع ہوں گے پس وہ جانور کہے گا تمہیں اللہ کے دشمن کے پاس کس نے جمع کیا ہے لوگ جلدی کریں گے وہ جانور کافر پر نشانی لگائے گا یہاں تک کہ دو آدمی آپس میں خریدو فروخت کا معاملہ کریں گے ایک کہے گا لے یہ لے لے اے مومن اور دوسرا کہے گا لے لے اے کافر۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (فيقول).
(٢) في [أ، ب]: (الرجلان).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40068
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق في التفسير ٣/ ٨٤، وابن أبي حاتم (١٦٥٩٣)، وابن جرير ١٤/ ٢٠، والحاكم ٤/ ٥٣١، والطيالسي (١٠٦٩)، والثعلبي في التفسير ٧/ ٢٢٥، والطبراني في الأوسط (١٦٣٥) والكبير (٣٠٣٥)، والبخاري في التاريخ الكبير ٥/ ٣٩١، والفاكهي (٢٣٤٤)، ونعيم بن حماد (١٨٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40068، ترقيم محمد عوامة 38440)