مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40064
٤٠٠٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان ومسعر عن أشعث (بن) (١) أبي الشعثاء عن رجاء بن حيوة عن معاذ قال: إنكم ابتليتم بفتنة الضراء فصبرتم، و (سوف تبتلون) (٢) ⦗٢٤٩⦘ بفتنة السراء وإن أخوف ما أتخوف عليكم فتنة النساء إذا (سورن) (٣) الذهب (ولبسن ريط) (٤) الشام فأتعبن (الغني) (٥) وكلفن الفقير ما لا يجد (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا یقینا تمہیں تنگی کے فتنے میں آزمایا جائے گا پس صبر کرنا اور عنقریب ت میں آسانی کے فتنے میں آزمایا جائے گا اور بلا شبہ جن چیزوں کا مجھے تم پر خوف ہے ان میں سے سب سے زیادہ خوف عورتوں کے فتنے سے ہے جب ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ شام کا باریک کپڑا پہنیں گی مالدار کو تھکا دیں گی اور فقیر کو ایسی چیزوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گی جو اس کے پاس نہیں ہوں گی۔
حواشی
(١) في [س]: (عن).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (وستبتلون).
(٣) في [ط، هـ]: (تسورن).
(٤) في [أ، ب]: (ومن له بطا).
(٥) في [ع]: (الغنا).
(٦) منقطع؛ رجاء لم يدرك معاذ بن جبل، وأخرجه ابن المبارك في الزهد (٧٨٥)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٣٦، والبيهقي في الزهد (٤٣٧)، وشعب الإيمان (٥٤١٤)، وابن الجوزي في ذم الهوى ص ١٦٣، ورواه مرفوعًا الخطيب في تاريخ بغداد ٣/ ١٩٠.