حدیث نمبر: 40050
٤٠٠٥٠ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا ابن عون عن ابن سيرين قال: كان محمد ابن أبي حذيفة مع كعب في سفينة فقال لكعب ذات يوم: يا كعب! أتجد هذه في التوراة كيف تجري وكيف وكيف؟ فقال له كعب: لا تسخر من التوراة، فإنها كتاب اللَّه، (وإن ما) (١) فيها حق، قال: فعاد فقال له مثل ذلك، فعاد فقال له مثل ذلك ثم قال: (لا) (٢)، ولكن أجد فيها أن رجلًا من قريش أشط الناب، ينزو في الفتنة كما ينزو (الحمار) (٣) (في قيده) (٤) فاتق اللَّه ولا تكن أنت هو، قال محمد: فكان هو.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت محمد بن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ کشتی میں حضرت کعب احبار کے ساتھ تھے حضرت محمد بن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب سے ایک دن کہا اے کعب کیا ہم اس (یعنی کشتی) کے بارے میں تورات کے اندر پاتے ہیں کہ کیسے چلتی ہے اور کیسے اور کیسے ؟ ان سے کعب احبار نے فرمایا تو رات کے بارے میں مذاق نہ کرو یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس میں جو ہے وہ حق ہے راوی کہتے ہیں حضرت محمد بن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دوبارہ دہرایا حضرت کعب نے اسی طرح ارشاد فرمایا پھر انہوں نے اس بات کو دہرایا حضرت کعب نے ان سے یہی فرمایا نہیں لیکن اس میں یہ پاتا ہوں کہ بلا شبہ قریش میں سے ایک آدمی ہوگا زائد نوکیلے دانت والا وہ فتنے میں ایسے کودے گاجی سے گدھا اپنی رسی میں کودتا ہے پس اللہ سے ڈر اور تو وہ آدمی نہ بن محمد بن سیرین راوی فرماتے ہیں وہ وہی تھے۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (إنما).
(٢) سقط من: [أ، ب، س، هـ].
(٣) في [أ، ب]: (الجماعة).
(٤) في [أ، ب]: (وفيك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40050
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40050، ترقيم محمد عوامة 38422)