مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠٠٤٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا فضيل بن غزوان عن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ في حجة الوداع: "أيها الناس! أي يوم هذا؟ " قالوا: يوم حرام، قال: "فأي بلد هذا؟ " قالوا: بلد حرام، قال: "فأي شهر هذا؟ " قالوا: شهر حرام، قال: "فإن (أموالكم ودماءكم) (١) وأعراضكم عليكم حرام ⦗٢٤٥⦘ كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا" -ثم أعادها مرارا، قال: ثم رفع رأسه إلى السماء فقال: "اللهم هل بلغت؟ "- مرارا، قال يقول ابن عباس: واللَّه إنها لوصيته إلى ربه، ثم قال: "ألا فليبلغ الشاهد الغائب: لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض" (٢).حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا اے لوگو یہ کونسا دن ہے لوگوں نے عرض کیا یوم حرام (حرمت والا دن) آپ نے پوچھا یہ کونسا شہر ہے لوگوں نے عرض کیا حرمت والا شہر آپ نے پوچھا یہ کونسا مہینہ ہے لوگوں نے عرض کیا حرمت والا مہینہ ہے آپ نے ارشاد فرمایا بلا شبہ تمہارے اموال اور تمہارے خون اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں پھر اس فرمان کو کئی مرتبہ دہرایا پھر اپنے سر کو آسمان کی طرف اٹھایا اور ارشاد فرمایا اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا یہ فرمان کئی مرتبہ دہرایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے رب سے مناجات تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا : یہ پیغام حاضر غائب کو پہنچائے میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔