مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠٠٤٤ - حدثنا أبو الأحوص (عن سماك) (١) عن علقمة بن وائل قال: قام سلمة الجعفي إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: يا رسول اللَّه أرأيت إن كان علينا من بعدك قوم يأخذوننا بالحق ويمنعون حق اللَّه، قال: فلم يجبه (النبي ﵊ (٢) بشيء، قال: ثم قام الثانية فلم يجبه النبي ﷺ بشيء، ثم قام الثالثة، فقال رسول اللَّه ﷺ: " (عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم) (٣) فاسمعوا لهم وأطيعوا" (٤).حضرت علقمہ بن وائل سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت سلمہ جعفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بتلائںِ کہ اگر آپ کے بعد ہم پر ایسے لوگ ہوں جو ہم سے حق لے لیں اور اللہ کا حق روکتے ہوں آپ نے ان کا کچھ بھی جواب نہ دیا راوی فرماتے ہیں پھر دوسری مرتبہ کھڑے ہوئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب نہ دیا پھر تیسری مرتبہ کھڑے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان پر وہ لازم ہے جو وہ بوجھ لادے گئے اور تم پر لازم ہے جو تم بوجھ لادے گئے ہو پس ان کی بات سنو اور اطاعت کرو۔