حدیث نمبر: 40041
٤٠٠٤١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن عجلان عن (بكير) (١) بن عبد اللَّه بن الأشج قال: قال عبادة بن الصامت لجنادة بن أبي أمية الأنصاري: تعال حتى أخبرك ماذا لك؟ وماذا عليك؟ (إن عليك) (٢) السمع والطاعة في عسرك وشرك ومنشطك ومكرهك والأثرة (٣) عليك وأن تقول بلسانك، وأن لا تنازع الأمر أهله إلا أن ترى كفرا براحا (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبادہ بن صامت نے حضرت جنادہ بن ابو امیہ انصاری سے فرمایا آؤ میں تمہیں خبردیتا ہوں کہ کیا تمہارے لیے ہے اور کیا تم پر لازم ہے سننا اور اطاعت کرنا اپنی تنگی اور آسانی میں اور خوشی میں اور نا پسندیدگی کی حالت میں اور تم پر ترجیح دی جانے کی صورت میں اور یہ کہ تو اپنی زبان سے کہے اور نہ تو جھگڑا کر حکومت والوں سے مگر یہ کہ تو دیکھے واضح کفر کو۔

حواشی
(١) في [ع]: (بكر).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٣) في [ع]: (أثرة).
(٤) منقطع؛ لم يسمع بكير من عبادة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40041
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40041، ترقيم محمد عوامة 38413)