حدیث نمبر: 40037
٤٠٠٣٧ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد اللَّه بن المخارق بن سُلَيم عن أبيه قال: قال علي: إني لا أرى هؤلاء القوم إلا ظاهرين عليكم (لتفرقكم) (١) ⦗٢٤١⦘ عن حقكم واجتماعهم على باطلهم، كان الإمام ليس (بشاقٍ) (٢) (شعرة) (٣)، وإنه يخطئ ويصيب، فإذا كان عليكم إمام يعدل في الرعية ويقسم بالسوية فاسمعوا له وأطيعوا، وإن الناس لا يصلحهم إلا إمام بر أو فاجر، فإن كان برا فللراعي وللرعية، وإن كان فاجرا عبد فيه المؤمن ربه وعمل فيه الفاجر إلى أجله، وإنكم ستعرضون على سبي، وعلى البراءة مني، فمن سبني فهو في حل من سبي، ولا تبرؤا من ديني فإني على الإسلام (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا میں ان لوگوں کے بارے میں سمجھتا ہوں کہ یہ تم پر غالب آجائیں گے تمہارے حق پر اختلاف اور ان کے باطل پر اجتماع کی وجہ سے اور امام مال کو پھاڑنے والا تو نہیں ہوتا بلاشبہ وہ غلطی بھی کرتا ہے اور درستگی تک بھی پہنچ جاتا ہے پس اگر تمہارے اوپر ایسا امام مقرر ہو جو رعایا میں انصاف کرے اور برابر تقسیم کرے پس اس کی بات سنو اور اطاعت کرو اور بلاشبہ لوگوں کی اصلاح نہیں کرتا مگر امام نیک ہو یا فاجر پس اگر وہ نیک ہے تو نگہبان اور رعایا کے لیے ہے اور اگر فاجر ہے اس کے زمانے میں مومن اپنے رب کی عبادت کرے گا اور فاجر اپنے مقررہ وقت تک عمل کرے گا اور بلا شبہ تم سے عنقریب مجھے برا بھلا کہنے اور مجھ سے براءت کا مطالبہ کیا جائے گا جس آدمی نے مجھے برا بھلا کہا تو میرے لیے بھی اس کو برا بھلا کہنا درست ہے اور میرے دین سے براءت کا اظہار نہ کرنا کیونکہ میں اسلام پر ہوں۔

حواشی
(١) في [ط]: (بتفرقكم).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (يشاق)، وفي [س]: (بساق).
(٣) في [ط، هـ]: (سفره).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40037
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن مخارق وأبوه صدوقان.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40037، ترقيم محمد عوامة 38409)