مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠٠٣٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: سمعت أبا هريرة يقول: ويل للعرب من شر قد اقترب، (أظلت) (١) ورب الكعبة (أظلت) (٢)، واللَّه لهي أسرع إليهم من الفرس المضمّر السريع، الفتنة العمياء الصماء المشبهة، يصبح الرجل فيها على أمر ويمسي على أمر، القاعد فيها خير من القائم، والقائم فيها خير من الماشي، والماشي فيها خير من الساعي، ولو أحدثكم بكل الذي أعلم لقطعتم عنقي من هاهنا، وأشار (عبد اللَّه) (٣) إلى قفاه -يحرف كفه (يحزه) (٤) ويقول: اللهم لا يدرك أبا هريرة إمرةُ الصبيان (٥).حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا : میں نے حضرت ابوہریرہ کو فرماتے ہوئے سنا ہلاکت ہے، عرب کے لیے ایسی برائی سے جو قریب ہوچکی قریب ہوگی رب کعبہ کی قسم قریب ہوگی اللہ کی قسم وہ ان کو تیز رفتار دبلے گھوڑے سے بھی جلدی پہنچے گی۔ اندھا بہرا اشتباہ میں ڈالنے والا فتنہ ہوگا اس میں یک آدمی ایک امر پر جمع کرے گا اور دوسرے امر پر شام کرے گا اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا اس میں چلنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں چلنے والا اس میں کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا اگر میں تم سے تمام وہ باتیں بیان کروں جو میں جانتا ہوں تو تم میری گردن یہاں سے کاٹ دو (یہ کہتے ہوئے) حضرت عبداللہ نے اشارہ کیا اپنی گدی کی طرف اپنی ہتھیلی کے کنارے سے اسے حرکت دیتے ہوئے اور فرمایا اے اللہ ! ابوہریرہ کو بچوں کی امارت (کا زمانہ) نہ پالے۔