مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40030
٤٠٠٣٠ - حدثنا أبو أسامة عن أبي الأشهب قال: حدثنا عمرو بن عبيد عن ثوبان قال: توشك الأمم أن تداعى عليكم كما يتداعى القوم على قصعتهم، ينزع الوهن من قلوب عدوكم ويجعل في قلوبكم، وتحبب إليكم الدنيا (قالوا: من (قلة)) (١) (٢)؟ قال: أكثركم غثاء كغثاء السيل (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثوبان سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا قریب ہے کہ لوگ تمہارے خلاف ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گے جیسے لوگ اپنے پیالے کی طرف ایک دوسرے کو دعوت دیتے ہیں وھن (دنیا کی محبت اور موت سے کراہت) تمہارے دشمنوں کے دلوں سے نکال لیاجائے گا اور تمہارے قلوب میں ڈال دیا جائے گا دنیا تمہارے نزدیک محبوب ہوجائے گی لوگوں نے عرض کیا ایسا قلت کی وجہ سے ہوگا ارشاد فرمایا تمہاری کثرت جھاگ کے برابر ہوگی سیلاب کے جھاگ کی طرح۔
حواشی
(١) في [جـ، س، ع]: (كله).
(٢) في [أ، ب]: (قال: من كان له).
(٣) مجهول؛ لجهالة عمرو بن عبيد العبشمي، أخرجه الطيالسي (٩٩٢)، والبخاري في التاريخ الكبير ٦٠/ ٣٥٢، والبيهقي في الشعب (١٠٣٧٢)، وأخرجه مرفوعًا أحمد (٢٢٣٩٧)، وأبو داود (٤٢٩٧)، والطبراني (١٤٥٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٨٢، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٥٣٤، والبغوي (٤٢٢٤).