حدیث نمبر: 40022
٤٠٠٢٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد أن عليا أرسل إلى محمد بن مسلمة أن يأتيه، فأرسل إليه وقال: إن (هو) (١) لم يأتني فاحملوه، فأتوه فأبى أن يأتيه، فقالوا: إنا قد أمرنا إن لم تأته أن نحملك حتى نأتيه بك، قال: ارجعوا إليه فقولوا له: إن ابن عمك وخليلي عهد إلي أنه ستكون فتنة وفرقة واختلاف، فإذا كان ذلك فأجلس في بيتك واكسر سيفك حتى تأتيك منية قاضية أو يد خاطية، فاتق اللَّه -يا علي- ولا تكن تلك اليد الخاطية، فأتوه فأخبروه فقال: دعوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ بن زید سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت محمد بن مسلمہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ ان کے پاس آئیں اور ان کی طرف پیغام بھیجا اور کہا اگر وہ میرے پاس نہ آئیں تو ان کو اٹھا کرلے آنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے حضرت محمد بن مسلمہ کے پاس آئے انہوں نے ان کے پاس جانے سے انکار کردیا انہوں نے کہا ہمیں حکم دیا گیا ہے اگر آپ نہ جائیں تو ہم آپ کو اٹھا کر ان کے پاس لے جائیں حضرت محمد بن مسلمہ نے ارشاد فرمایا ان کی طرف لوٹ جاؤ اور ان سے کہو آپ کے چچا کے بیٹے میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے وصیت کی کہ عنقریب فتنے اور تفرقے اور اختلاف ہوں گے جب یہ ہوجائے تو تو اپنے گھر میں بیٹھ جانا اور اپنی تلوار توڑ دینا یہاں تک کہ تیرے پاس فیصلہ کرنے والی موت یا غلیا کرنے والا ہاتھ آجائے اے علی رضی اللہ عنہاللہ سے ڈر اور ایسا نہ ہو کہ یہ غلطی کرنے والا ہاتھ ہو (حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے) وہ ان کے پاس آئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتلایا انہوں نے فرمایا اسے چھوڑ دو ۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40022
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال علي بن زيد بن جدعان ولم يدرك عليًا، أخرجه أحمد (١٦٠٢٩)، وابن ماجه (٣٩٦٢)، والحاكم ٣/ ١١٧، والطبراني ١٩/ (٥١٧)، والبيهقي ٨/ ١٩١، وابن سعد ٣/ ٤٤٤، وابن مبارك في الزهد (٢٤٧)، وابن عساكر ٥٥/ ٢٨٤، ونعيم في الفتن (٣٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40022، ترقيم محمد عوامة 38394)