مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 40007
٤٠٠٠٧ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا سفيان عن سلمة بن كهيل عن أبي إدريس (المرهبي) (١) عن مسلم بن صفوان عن صفية قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا (ينتهي) (٢) ناس عن غزو هذا البيت، حتى يغزو جيش حتى إذا كانوا بالبيداء أو (ببيداء) (٣) من الأرض خسف بأولهم وآخرهم (٤) "، قلت: فإن كان فيهم من يُكره؟ قال: "يبعثهم اللَّه على ما في أنفسهم" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفیہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگ اس گھر یعنی بیت اللہ پر حملے سے نہیں رکیں گے یہاں تک کہ ایک لشکر لڑائی کے لیے نکلے گا جب وہ زمین میں ایک میدان میں ہوں گے ان کے اگلوں اور پچھلوں کو دھنسا دیا جائے گا اور ان کے درمیان والے بھی نجات نہ پائیں گے حضرت صفیہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اگر ان میں ایسا ایسا آدمی ہو جس پر زبردستی کی گئی ہو آپ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ان کو اٹھائیں گے اس (نیت وغیرہ پر) پر جو ان کے جی میں ہوگا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ص، ط]: (المهري)، وفي [س]: (المهدي).
(٢) في [ب]: (ينتهيان).
(٣) في [ع]: (بيد).
(٤) في [هـ]: زيادة من سنن ابن ماجه: (ولم ينج أوسطهم).
(٥) مجهول؛ لجهالة مسلم بن صفوان، أخرجه أحمد (٢٦٨٦١)، والترمذي (٢١٨٤)، وابن ماجه (٤٠٦٤)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣١٢٢)، وأبو يعلى (٧٠٦٩)، والفاكهي في أخبار مكة (٧٦٢)، والطبراني ٢٤/ (١٩٨).